Al-Risala · November 1993 · page 28

سفر بندرابن

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۸

جے پرکاش نرائن ایک شریف انسان تھے نہ کہ مفکر انسان۔

بندرابن پہنچ کر ہم گیتا آشرم گئے۔ یہیں پر قیام اور اجلاس دونوں کا انتظام کیا گیا تھا آ شرم میں داخل ہوئے تو پتہ چلا کہ اجلاس جاری ہے۔ چنانچہ ہم لوگ سیدھے آ شرم کے ہال میں پہنچے اور اجلاس میں شریک ہوگئے۔ اس ہال تک پہنچنے کے لئے جامع مسجد دہلی کی طرح اونچی سنگ مرمر کی سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔

اس آ شرم میں ایک ہاسٹل ہے جس میں سنسکرت کے طلبہ کے لئے قیام کا انتظام ہے۔ یہ طلبہ شہر کے سنسکرت کالج میں پڑھتے ہیں اور ان کے لئے قیام و طعام کا انتظام آ شرم کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ یہ برہمن خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ تقریباً ۲۰ کی تعداد میں تھے۔

میں نے دیکھا کہ یہ نوجوان طلبہ ہر روز صبح سویرے ایک بڑے کمرہ میں جمع ہوتے ہیں اور گیتا کا پاٹھ کرتے ہیں۔ یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے ہمارے یہاں تجوید کے مدارس میں ہوتا ہے۔ ایک پنڈت سامنے بیٹھ کر گیتا کے سنسکرت اشلوک اصول قرآت کے مطابق پڑھتا اور بقیہ تمام طلبہ اس کو دہراتے تھے۔ اس عمل کے خاتمہ پر سب مل کر ایک ہندی نظم پڑھتے تھے۔ اس کے چند اشعار یہ ہیں۔ پاٹھ گیتا کا سدا کرنا برہم ہے پاٹھ گیتا کا سدا کرنا ہی مانو دھرم ہے گیان گیتا کا سدا ہر دے میں دھرنا چاہئے منش کو ہر روز گیتا پاٹھ کرنا چاہئے میں نے پنڈت جی سے پوچھا کہ پورے دیش میں گیتا کے کتنے لاکھ حافظ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھ تو نہیں, شاید کچھ ہزار ہوں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ آپ کو تو پوری گیتا یاد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہاں, کچھ کچھ۔ وہاں ۲۰ طالب علم تھے۔ سب کے سب معمولی گھروں کے دکھائی دئے۔ تاہم آ شرم کی عمارت کافی شاندار اور وسیع تھی۔

یہاں آگرہ کا ہندی اخبار دینک جاگرن (۱۵ جنوری ۱۹۹۳) دیکھا۔ اس کے پہلے صفحہ کی کچھ سرخیاں یہ تھیں:

بمبئی میں دنگائیوں نے ۸ لوگوں کو زندہ پھونکا احمد آباد میں چھرے بازی کی چٹ پٹ وار داتیں مسجد ڈھانا بھاجپا کی سوچی سمجھی سازش (ارجن سنگھ)

‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues

Printed page