Al-Risala · February 1993 · page 4

روزہ کا فائدہ

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۴

روزہ کا فائدہ

جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے اور خدا کی رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں (سُلسلت الشیاطین وفتحت ابواب الرحمة)

شاہ ولی اللہ دہلوی نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب امتوں میں سے کوئی امت روزہ کا التزام کرتی ہے تو اس کے شیطانوں کو بیڑیوں میں باندھ دیا جاتا ہے اور اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور آگ کے دروازے اس کے اوپر بند کر دیے جاتے ہیں (واذا التزمت امة من الامم سلسلت شياطينها وفتحت ابواب جنانها وغلقت ابواب النیران عنھا) حجة اللہ البالغہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان انسانوں میں بھی ہوتے ہیں اور جنات میں بھی (الانعام ۱۲) حدیث کے مطابق ، روزہ ان دونوں ہی قسم کے شیطانوں سے نجات دینے والا ہے۔ جو قوم حقیقی طور پر روزہ کے اوپر قائم ہو جائے وہ ان دونوں ہی قسم کے شیطانوں سے محفوظ ہو جائے گی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں قسم کے شیاطین کے لیے انسان کے اوپر قابو پانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ خود انسان کا اپنا نفس ہے ، شیاطین جن لوگوں کے نفس کو خواہشوں کے فریب میں مبتلا کر کے ان کے اوپر قابو پاتے ہیں اور پھر جدھر چاہتے ہیں ان کو ادھر لے جاتے ہیں۔

شیاطین انس کے لیے بھی انسان کے اوپر قابو پانے کا راستہ یہی ہے ، وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جن سے انسان کا نفس بھڑک اٹھے۔ اور جب انسان کا نفس بھڑک اٹھتا ہے تو وہ اپنی عقل کھو دیتا ہے۔ اور پھر شیاطین انس کو موقع مل جاتا ہے کہ جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ روزہ آدمی کے نفس کو زیر کرتا ہے۔ وہ آدمی کے حیوانی جذبات کو گھٹاتا ہے اور اس کے مکوتی جذبات کو ابھارتا ہے۔ اس طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ نفسیاتی خواہشوں کا شکار نہ ہو۔ وہ اشتعال انگیز باتوں پر بھڑک کر قابو سے باہر نہ ہو جائے ۔ اس طرح روزہ شیاطین جن اور شیاطین انس دونوں کو گویا اس طرح زنجیر دوں میں باندھ دیتا ہے کہ وہ انسان کے اوپر اپنا اثر ڈالنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page