Al-Risala · March 1994 · page 7

قرآنی افکار

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۷

بن کر کھڑا ہو جاتا ہے جس کا دوسرا نام مومن ہے۔

جس طرح درخت تنه اور شاخ اور پھول اور پھل وغیرہ کی صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اس طرح ایمان بھی ایک فرد کی زندگی میں مختلف اور متنوع صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ با ایمان فرد ایک ایسی شخصیت بن جاتا ہے جو اپنے تتوسیعی پہلو سے زمین و آسمان کی وسعتوں میں پھیلا ہوا ہو، ایمان کا یہ وسیعی اضافہ جن مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اس کو الگ الگ ممیز کرنے کے لیے ان کو شکر، خشوع، تواضع، توکل، عبادت، صبر، اخلاق، حسن معاملہ، ایفاء عہد، عدل، ایمانداری، ادائگی حقوق، امر بالمعروف، دعوت الی اللہ وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایمان سب سے پہلے یہ کرتا ہے کہ وہ آدمی کی مردہ شخصیت کو ایک زندہ شخصیت بنا دیتا ہے۔ وہ اللہ کی معرفت میں غرق ہو جاتا ہے۔ اس کو ہر وقت اللہ کی یادوں کا رزق ملتا رہتا ہے۔ دنیا کی محدودیت سے نکل کر وہ آخرت کی لامحدود وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ حیات عارضی سے گزر کر حیات ابدی کے جلوؤں کو پا لیتا ہے۔ اس کو وہ بھر پور زندگی حاصل ہو جاتی ہے جس کو قرآن میں حیات طیبہ کہا گیا ہے۔

ایمان جب اس طرح کسی آدمی کی اندرونی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے تو وہ زندگی کے خارجی پہلوؤں میں بھی حسب حالات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ دوسروں سے بات چیت میں، دوسروں سے لین دین میں، دوسروں سے معاملہ کرنے میں اس کا حال وہ ہو جاتا ہے جس کا نقشہ قرآن کے ان لفظوں میں کھینچا گیا ہے : وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دے دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے (الانعام ۱۲۲) اسی کے ساتھ اس فرد مومن میں اصلاح کا بے پناہ جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس جذبہ اصلاح کا ایک ظہور وہ ہے جو مومنوں کی جماعت کے درمیان ہوتا ہے۔ اور دوسرا وہ ہے جس کا ظہور غیر مسلموں کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ پہلے گروہ کے درمیان مومن کے اس اصلاحی کام کا عنوان، قرآن کے الفاظ میں، امر بالمعروف و النہی عن المنکر ہے، اور غیر مسلموں کے درمیان اس اصلاحی کام کا عنوان دعوت الی اللہ۔ اس قسم کے افراد جب قابل لحاظ تعداد میں اکٹھا ہو جائیں تو ان کے لیے اس اجتماعی نصرت کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے جس کو تمکین فی الارض کہا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page