سچائی کو پانے والا
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۱۳
قرآن کی اہم ترین صفت یہ ہے کہ وہ ہدایت کی کتاب ہے۔ قرآن سچائی کا دروازہ ہے۔ قرآن کے ذریعہ آدمی سچائی کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ ہمارے پاسی آنکھ ہے۔ مگر جب تک کوئی روشنی اندھیرے کو نہ ہٹائے ہم باہر کی چیزوں کو دیکھ نہیں سکتے۔ قرآن یہی روشنی ہے۔ وہ ہماری بصارت کو بصیرت کی نعمت عطا کرتا ہے۔
قدیم عرب میں بہت سے لوگ تھے جن کو حفا کہا جاتا تھا۔ آج کل کی زبان میں وہ سچائی کے متلاشی تھے۔ ان کی اندرونی طلب ایک چیز کو چاہتی تھی۔ مگر ان کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چیز ہے۔ مگر جب قرآن اترا اور انھوں نے اس کو پڑھا تو قرآن کی باتیں ان کو اپنے دل کی آواز معلوم ہوئیں۔ انھوں نے بڑھ کر اس کو قبول کر لیا۔ قرآن ان کے ذہن کے لیے اطمینان اور ان کے دل کے لیے تسکین کا ذریعہ بن گیا۔
ٹھیک اسی طرح آج بھی بے شمار لوگ ہیں جو حق کے متلاشی ہیں۔ مگر ان کو نہیں معلوم کہ وہ حق کیا ہے اور کہاں ہیں۔ ان میں سے کسی شخص کو جب قرآن پڑھنے کو ملتا ہے تو وہ پکار اٹھتا ہے کہ قرآن ہی وہ ہدایت نامہ ہے جس کی تلاش اس کی روح کر رہی تھی۔ وہ آگے بڑھ کر قرآن کے دین کو اختیار کر لیتا ہے۔ وہ قرآن کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتا ہے۔
آدمی ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے جہاں سورج روشنی بکھیر رہا ہے مگر وہ نہیں بتاتا کہ وہ کیوں ایسا کر رہا ہے۔ ہوا میں اس کو آکسیجن سپلائی کرتی ہیں مگر وہ نہیں بتائیں کہ وہ کس منصوبے کے تحت ایسا کر رہی ہیں۔ یہاں ہر طرف صحت بخش پانی موجود ہے مگر وہ بھی اس کی خبر نہیں دیتا کہ وہ کس سرچشمہ رحمت کے فیض سے ایسا کر رہا ہے۔ زمین کی سطح پر جگہ جگہ اونچے پہاڑ کھڑے ہوئے ہیں مگر کسی پہاڑ پر ایسا کوئی بورڈ نہیں لگا ہوا ہے جس پر ان کا ئناتی سوالات کا جواب لکھا ہوا ہو۔
قرآن اس کمی کو پورا کرتا ہے۔ قرآن حقائق فطرت کا اعلان ہے۔ قرآن ہم کو زندگی اور کائنات کے رازوں سے آگاہ کرتا ہے۔ وہ انسان کے آغاز اور اس کے انجام کی اطلاع دیتا ہے۔ قرآن ہر آدمی کے لیے گائیڈ تک ہے جس کی رہ نمائی میں وہ اپنے سفر حیات کو طے کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues