قرآن کمی طاقت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۲۵
قرآن میں اعلان کیا گیا کہ کائنات کا خالق صرف ایک ہے۔ ایک ہی عظیم ہستی ہے جس نے پوری کائنات کو تخلیق کیا ہے اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہے۔ مگر مشرکین نے اس کی تردید کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات میں بہت سی مختلف اور متضاد چیزیں ہیں۔ اسی کے ساتھ بظا اس میں جدا جدا نظام بھی نظر آتا ہے ۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کائنات کے خالق بھی متعدد ہیں اور اس کو چلانے والے بھی متعدد۔
جدید سائنس کے ظہور سے پہلے بظاہر یہ استدلال وزنی معلوم ہوتا تھا۔ مگر جدید سائنسی تحقیقات نے بتایا کہ بظاہر ہر تنوع کے باوجود پوری کائنات ایک ہی قسم کے اجزاء سے ترکیب پا کر بنی ہے ، اور وہ ایٹم ہے۔ اسی طرح مزید تحقیق نے بتایا کہ پوری کائنات ایک ہی محکم قانون کے تحت چل رہی ہے۔ اس میں کئی الگ الگ قوانین کی کارفرمائی نہیں۔ اس طرح شرک کا مفروضہ بے بنیاد ثابت ہو گیا اور توحید کا عقیدہ ایک علمی حقیقت کے طور پر ثابت شدہ بن گیا۔ قرآن میں کہا گیا کہ کائنات ابتدائی حالت رتق میں تھی ، پھر اس کا فتق کیا گیا (الانبیاء، ۳۰) نزول قرآن کے وقت یہ انوکھی بات تھی۔ مزید یہ کہ وہ ایک پر خطر پیشین گوئی کی حیثیت رکھتی تھی۔ کیوں کہ اگر وہ علمی مشاہدہ میں صحیح ثابت نہ ہو تو اس کے بعد پورا قرآن مشتبہ ہو جاتا۔ مگر بیسویں صدی کے نصف ثانی میں پہنچ کر خالص سائنسی طور پر ثابت ہو گیا کہ یہ عین مطابق واقعہ بیان تھا۔ آج قرآن کی یہ پیشین گوئی بگ بینگ نظریہ کی حیثیت سے سائنس کا ایک مسلمہ بن چکی ہے۔
قرآن میں اعلان کیا گیا کہ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں جو فرعون تھا ، سمندر میں غرق ہونے کے بعد اس کا جسم محفوظ کر دیا گیا ہے ، تاکہ بعد والوں کے لیے نشانی کا کام دے (یونس ۹۲) جس وقت یہ اعلان کیا گیا اس وقت فرعون کے جسم کے بارہ میں دنیا کو کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ یہ تاریخ کے بارہ میں ایک نہایت پر خطر بیان تھا۔ مگر انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں حیرت انگیز طور پر فرعون موسیٰ کا مومیائی کیا ہوا جسم مصر کے ایک اہرام سے برآمد ہو گیا اور آج وہ قاہرہ کے قومی میوزیم میں مشاہدہ عام کے لیے موجود ہے۔
اس طرح قرآن ہر دور میں اپنی صداقت کو مزید اضافہ کے ساتھ مسلم کرتا جا رہا ہے ۔ بعد کی علمی اور تاریخی دریافتیں قرآن کی تصدیق کر رہی ہیں ، وہ اس کی تردید کرنے والی نہیں بنیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues