Al-Risala · March 1994 · page 27

صوتی اعجاز

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۲۷

پورا اہتمام کیا۔ قرآن کو انھوں نے حسب قاعدہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیا، اور تلاوت کے خاتمہ پر آخر میں صدق اللہ العظیم کہا۔

یہ میری زندگی کا ایک انوکھا تجربہ تھا اور غالباً ان ایک ہزار سامعین کے لیے بھی نیا اور انوکھا تھا جو اس وقت طرابلس کے مسرح التحریر میں موجود تھے۔ اصل انجیل ایک خدائی کتاب تھی۔ مگر ظاہر ہے کہ اس کا موجودہ عربی ترجمہ عملاً ایک انسانی کلام ہے۔ اس کے برعکس قرآن کی زبان مکمل طور پر الہامی زبان ہے۔ جب دونوں کتابوں کے حصے بیک وقت لوگوں کے سامنے آئے تو دونوں کا فرق ایک کھلی ہوئی حقیقت بن کر لوگوں کے سامنے آگیا۔ یہ دوطرفہ تلاوت گویا ایک خاموش اعلان تھی کہ یہ انسانی کلام ہے اور وہ خدائی کلام۔

انجیل کی قرأت میں ساری کوشش کے باوجود کوئی شکوہ پیدا نہ ہوسکا۔ مگر انجیل کی تلاوت کے بعد جب لاؤڈ اسپیکر پر قرآن کی تلاوت کی گئی تو قرآن حیرت انگیز طور پر ایک برتر کلام کی مانند ہال کے اندر گونجنے لگا۔ اس کی مجرد سماعت ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ یہ ایک بلند تر خدائی کلام ہے اور وہ کوئی عام انسانی کلام مسیحی عالم نے انجیل کے بعد جب قرآن کی تلاوت کی تو ایسا محسوس ہوا جیسے قرآن کی آواز نے انجیل کی آواز کو نگل لیا ہو۔ اس وقت بالکل وہی منظر دکھائی دینے لگا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : فإذا هی تلقف ما يأفكون ( الاعراف (۱۱۷ کانفرنس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد تمام لوگ ایک بڑے ہال میں چائے پینے کے لیے جمع ہوئے، میں جس میز پر بیٹھا اس کے دوسرے جانب ایک نوجوان پادری تھے جو ویٹیکن سے آئے تھے۔ ان کا نام اینٹونی شولیکل (Dr Antony Shollikal) تھا۔ کانفرنس کے آخری پروگرام کا اثر ابھی سب کے ذہنوں پر باقی تھا جبکہ انجیل کی آواز پر قرآن کی آواز اس طرح چھاگئی جیسے کہ قرآن نے اس کو نگل لیا ہو۔ اس پس منظر میں چائے کی میز پر ہم دونوں کی بات شروع ہوئی۔ میں نے ڈاکٹر شولیکل سے کہا : آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا قرآن خدا کی کتاب ہے۔ ڈاکٹر شولیکل سمیت تمام پادری اگرچہ کانفرنس ہال میں قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے کی تردید کر چکے تھے۔ مگر مذکورہ تقابلی قرأت کے زیرِ اثر ان کی زبان سے نکلا ہاں۔ لیکن جلد ہی بعد انھیں محسوس ہوا کہ انھوں نے اپنے عقیدہ کے خلاف ایک بات کہہ دی۔ چنانچہ اگلے لمحہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا : مگر وہ صرف قدیم عربوں کے لیے تھا نہ کہ تمام انسانوں کے لیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues

Printed page