قرآن اور عربی زبان
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۳۷
جو نثر کی صورت میں سامنے آیا (ان القرآن اول ظاهرة نثرية فنية عند العرب، جوزيف الهاشم، المفيد في الادب العربي)
پروفیسر ہٹی نے قرآن کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن کی ادبی تاثیر کا اندازہ اس وقت ہوجاتا ہے جب یہ دیکھا جائے کہ یہ صرف قرآن ہی تھا جس کی وجہ سے ایسا ہوا کہ عربوں کی مختلف بولیاں الگ الگ زبان کی صورت اختیار نہ کر سکیں، جیسا کہ رومی زبانوں کے ساتھ پیش آیا۔ آج ایک عراقی اگرچہ ایک مراکشی کی گفتگو کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے، مگر وہ اس کی تحریری زبان کو سمجھنے میں کوئی دشواری محسوس نہیں کرتا۔ کیوں کہ عراق اور مراکش، اور اسی طرح شام، عرب، مصر، ہر جگہ کلاسیکی زبان کی حیثیت سے وہی عربی زبان رائج ہے جس کا ماڈل قرآن نے تیار کر دیا ہے۔ محمد کے وقت عربی نثر کی کوئی باقاعدہ کتاب موجود نہ تھی۔ اس بنا پر قرآن سب سے قدیم نثری کتاب ہے اور یہی کتاب اول روز سے عربی نثر کا ماڈل بنی ہوئی ہے۔ اس کی زبان میں نغمہ ہے مگر وہ شعر نہیں۔ اس کی پُر نغمہ نثر تھے ایک ایسا معیار قائم کر دیا ہے کہ تقریباً ہر قدامت پسند عرب ادیب آج تک اہتمام کے ساتھ اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
Philip K. Hitti, History of the Arabs, London 1970, p. 127 قرآن نے عربی زبان پر بیک وقت دو ایسے اثرات ڈالے ہیں جس کی مثال کسی بھی دوسری زبان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایک یہ کہ قرآن نے عربی کو نظم سے نثر کی طرف موڑ دیا۔ قرآن سے پہلے عربی دور شعر میں تھی، قرآن کے بعد وہ دور نثر میں داخل ہوگئی۔ دوسرا بے مثال اثر یہ ہے کہ قرآن نے عربی زبان کو ایک ایسا اعلیٰ اور آخری ماڈل دیدیا جو گویا عربی زبان کو پکڑ کر بیٹھ گیا۔ قرآن کی یہی خصوصی دین ہے جس کی وجہ سے عربی زبان آج بھی اپنی سابقہ صورت میں زندہ ہے، اس کے بغیر عربی کا وہی انجام ہوتا جو دوسری تمام زبانوں کے ساتھ بلا استثناء پیش آیا ہے۔ قرآن نے جب یہ اعلان کیا کہ وہ ابدی ہدایت نامہ ہے تو اس میں یہ چیز شامل تھی کہ اس کی زبان ہمیشہ ایک زندہ زبان کی حیثیت سے باقی رہے گی۔ اور تاریخ ثابت کرتی ہے کہ قرآن کا اعلان اپنے تمام تقاضوں کے ساتھ پورا ہو کر رہا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues