بادشاہ جھک گیا
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۴، صفحہ ۳۹
وسراً عليها يتكون ۔ وزخرفا پر وہ چڑھتے ہیں۔ اور ان کے گھروں کے وان كل ذلك لما متاع الحياۃ کواڑ بھی اور تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے الدنيا والآخرة عند ربک ہیں اور سونے کے بھی۔ اور یہ چیزیں تو صرف للمتقين (الزخرف ۳۲ - ۴۵) دنیا کی زندگی کا سامان ہیں اور آخرت تیرے رب کے پاس متقیوں کے لیے ہے۔
قاضی منذر بن سعید البلوطی کی حیثیت حکومت کے ایک ملازم کی تھی۔ اور عبدالرحمن الناصر کی حیثیت اندلس کے سلطان کی۔ مگر جب قاضی منذر نے قرآن کی مذکورہ آیتیں پڑھیں تو اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا وہ یہ تھا :
فوجم عبدالرحمن وبكى وقال : اس کے بعد عبدالرحمن غم میں پڑگیا اور اپنا سر جزاك الله خيراً واكثر فی جھکا کر رونے لگا۔ اس نے کہا کہ اللہ آپ کو المسلمين مثلك (۶۷۳/۸) اس کا اجر دے اور آپ جیسے بہت سے لوگ مسلمانوں میں پیدا کرے۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی صورت میں کیسی عظیم چیز اپنے بندوں کو عطا فرمائی ہے۔ یہ تو آسمان براہ راست اللہ کا کلام ہے۔ وہ کسی بھی قسم کی آمیزش کے بغیر مکمل طور پر اصل حالت میں موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا۔ اس کی پشت پر تاریخ کی وہ تمام عظمتیں جمع ہو چکی ہیں جو کتاب خداوندی کے شایانِ شان ہیں۔ ان چیزوں نے قرآن کو عظمت و جبروت والی ایک کتاب بنا دیا ہے جس طرح قرآن کو اتارنے والا خدا عظمت و جبروت والا خدا ہے۔
قرآن کی اسی عظمت کا یہ نتیجہ ہے کہ جب اس کا حوالہ دیا جائے تو بادشاہ بھی اس کا انکار کرنے کی ہمت نہ کر سکیں۔ قرآن کی بنیاد پر ایک کمزور آدمی ایک طاقت ور کو ایسی اعلیٰ سطح سے مخاطب کر سکتا ہے کہ بڑا آدمی اپنی بڑائی کو بھول جائے اور اس کے آگے ایک عاجز کی طرح ڈھ پڑے۔
قرآن بذات خود ایک طاقت ہے، خواہ اس کے ساتھ کوئی اور طاقت موجود نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1994 All issues