Al-Risala · April 1994 · page 18

ہندوتو کے بارے میں

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۴، صفحہ ۱۸

ہندوتو کے بارے میں

خطرے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک حقیقی خطرہ، اور دوسرا فرضی خطرہ۔ اگر حقیقی خطرہ درپیش ہو تو اس کا حل یہ ہے کہ آدمی اس کی نوعیت کو سمجھے اور اس کے مطابق بچاؤ کی ضروری تدبیر کرے۔ لیکن اگر خطرہ محض فرضی ہو، تو مسئلہ بالکل بدل جاتا ہے۔ اب اس سے بچاؤ کی تدبیر صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کو سادہ طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔ فرضی خطرہ کو نظر انداز کر دینا ہی اس سے بچاؤ کی سب سے زیادہ کامیاب تدبیر ہے۔

ہندوتو کا خطرہ راقم الحروف کے نزدیک محض فرضی خطرہ ہے، وہ کبھی واقع بننے والا نہیں۔ ایسی حالت میں اس کے لیے پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔

یہ صحیح ہے کہ آج کل ہندوتو کا کافی چرچا ہے۔ کچھ لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ مستقبل کا انڈیا ہندوتو کی بنیاد پر تشکیل دیا جائے گا۔ مگر جہاں تک میرا مطالعہ ہے، خود ہندوتو کے علم برداروں کے ذہن میں اس کا کوئی واضح نقشہ موجود نہیں ہے۔ اور جس چیز کا نقشہ ہی اب تک واضح طور پر متعین نہ ہوا ہو، وہ انڈیا کے مستقبل کی تشکیل کرنے والا کس طرح بنے گا۔

مسٹر لال کرشن اڈوانی کے الفاظ میں، ہندوتو سے مراد کلچرل نیشنلزم (cultural nationalism) ہے۔ یعنی کلچر پر مبنی قومیت۔ وہ کون سا کلچر ہو گا جس پر یہ قومیت تشکیل دی جائے گی۔ اس کا جواب مسٹر جے دوباشی کے الفاظ میں یہ ہے کہ انڈیا میں قومی تشخص صرف ہندو ہی ہو سکتا ہے : In India, the national identity can only be Hindu. (The Illustrated Weekly of India, March 12, 1993)

اس کے ساتھ مسٹر گری لال جین کے الفاظ ملا لیجیے تو بات مکمل ہو جائے گی۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۱ مارچ ۱۹۹۳) میں خاص اسی موضوع پر مسٹر جین کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے : Apartheid in reverse — Dangers of minorityism مضمون نگار کے نزدیک انڈیا کے مسلمانوں کے مسئلہ کا حل یہ ہے کہ وہ اکثریتی فرقہ کے کلچر کو اختیار کر لیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ انڈیا کوئی انسانی چڑیا خانہ نہیں ہے جس میں مختلف انسانی انواع

‹ Previous page Next page › Contents of April 1994 All issues

Printed page