Al-Risala · May 1994 · page 4

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۴

الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۴

صبر کی اہمیت

قرآن میں صبر کی غیر معمولی عظمت بیان ہوئی ہے۔ صبر کو اولوالعزم پیغمبروں کا طریقہ بتایا گیا ہے (الاحقاف (۳۵) صبر پر اعلیٰ ترین کامیابیوں کی بشارت ہے (الاعراف ۱۳۷) صبر قیادت عالم کا زینہ ہے (السجده (۲۴) صبر حفاظت کا یقینی ذریعہ ہے (یوسف (۹۰) حتی کہ صبر وہ چیز ہے جو آدمی کو بے حساب اجر کا مستحق بناتا ہے (الزمر (۱۰)

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے بہتر اور صبر سے بڑا عطیہ نہیں دیا گیا (وما اعطی احد عطاء خیراً واوسع من الصبر) عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کا سب سے بہتر صبر کے ذریعہ پایا (وجـــــد نــاخیر عيشنا بالصبر) ابن حجر العسقلانی نے صبر کی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صبر تمام اچھے اخلاق کا جامع ہے ( فــالصبر جامــع لمكارم الاخلاق) فتح الباری ۱۱ / ۲۰۹ - ۲۱۱ صبر نہ بزدلی ہے اور نہ وہ بے عملی ہے۔ صبر ایک مثبت قدر ہے۔ صبر بلند ترین ذہنی حالت ہے۔ صبر سب سے بڑا عمل ہے۔ صبر انسانیت کا تکمیلی درجہ ہے۔

آپ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں، کچھ لوگ آتے ہیں اور آپ کے خلاف مشتعل انگیز نعرہ لگا دیتے ہیں۔ اب آپ کے لیے رد عمل کے دو مختلف طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ نعرہ کو سن کر بھڑک اٹھیں۔ آنے والوں کے ساتھ جھگڑنے لگیں۔ یہ بے صبری کا طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اشتعال انگیز نعرہ کو سنیں مگر آپ اس پر اشتعال نہ ہوں، آپ کا ذہن بدستور اعتدال کی حالت پر باقی رہے۔ آپ اپنے جذبات کو تھام کر یہ سوچیں کہ ایسے موقع پر آپ کو کیا کرنا چاہیے ۔ یہ دوسرا طریقہ صبر کا طریقہ ہے۔

بے صبری بھی عمل ہے ، اور صبر بھی عمل ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی بے عملی نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بے صبر آدمی فوری جذبات کے تحت اقدام کر بیٹھتا ہے، خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ اس کے برعکس صبر والا آدمی سوچ سمجھ کر اور مشورہ کر کے اپنے اقدام کا فیصلہ کرتا ہے۔ بے صبری کی روش تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور صبر کی روش کامیابی کی طرف ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1994 All issues

Printed page