لاہور میں اجتماعی بروگرام
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۵
جس نے انھیں استحصال پسند لیڈروں کی شکار گاہ بنا دیا ہے۔
کرسٹینا لیمب برطانیہ کی ایک خاتون جرنلسٹ ہیں۔ وہ فنانشل ٹائٹس کی کرسپانڈنٹ کی حیثیت سے کئی سال تک پاکستان میں رہی ہیں۔ پاکستان کے بارہ میں اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں انھوں نے ۳۰۰ صفحہ کی ایک کتاب تیار کی ہے۔ یہ کتاب لندن سے چھپی ہے : Christina Lamb, Waiting for Allah — Pakistan's Struggle for Democracy وہ لکھتی ہیں کہ ابتدا ء جب میں پاکستان آئی تو اس سے مجھے بہت دلچسپی ہوئی۔ میں نے اس کے بارہ میں بڑی بڑی امیدیں قائم کر لیں ۔ مگر حقیقی تجربات نے مجھے اس کے بارہ میں مایوس کر دیا۔ خاص طور سیاسی کرپشن پاکستان کر اتنا زیادہ برباد کر چکا ہے کہ بظاہر اس کی ترقی کا کوئی امکان نہیں ۔ ان کے خیالات کا خلاصہ خود ان کے الفاظ میں یہ ہے کہ ـ آؤ ہم خدا پر بھروسہ کریں اور انتظار کریں کہ وہ ہم کو نجات دے گا ۔ کیونکہ ہم خود یہ کام نہیں کر سکتے : Let us have faith in Allah and wait for Him to redeem us, because we cannot do it ourselves. کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پاکستان کے بارہ میں برطانوی خاتون کے احساسات اس کے معاند کے احساسات نہیں ہیں بلکہ اس کے دوست کے احساسات ہیں۔ تاہم میں نے ایک صاحب سے کہا کہ پاکستان کی موجودہ صورت حال کی ذمہ داری سب سے زیادہ جس کے اوپر آتی ہے وہ یہاں کا " اسلام پسند طبقہ ہے ۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد ان لوگوں نے نہایت غیر دانش مندانہ طور پر یہ کیا کہ وہ " اسلامائزیشن آف پاکستان " کا سیاسی جھنڈا لے کو کھڑے ہو گئے۔ حالاں کہ ان کے کرنے کا کام یہ تھا کہ وہ اسلامائزیشن آف مین کے محاذ پر اپنی ساری قوتیں صرف کرتے ۔ اگر وہ ایسا کرتے کہ سیاست کے معاملہ کو نارمل پولیٹیکل پراسس کے حوالے کر دیتے اور خود فرد اور معاشرہ کی اصلاح کی مہم میں لگ جاتے تو یقینی طور پر پاکستان کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جو برطانی صحافی جیسے یہی خواہ ہوں کو آج وہاں نظر آتی ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ مسلم دنیا کو ایٹمی طاقت بننا چاہئے ۔ انھوں نے حوالہ دیا کہ لیبیا کے لیڈر