۲۹ ارسال مئی ۱۹۹۴
الرسالہ، مئی ۱۹۹۴، صفحہ ۴۱
ثابت ہونے والا ہوا۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے بڑے پیمانہ پر یہ فعل انجام دیا ہے۔ مسجد اقصی (۱۹۲۸) سلمان رشدی (۱۹۸۹)، شاہ بانو بیگم (۱۹۸۵)، بابری مسجد (۱۹۸۶) وغیرہ مسائل پر جو دھواں دھار تحریکیں چلائی گئیں وہ سب اسی کے تحت آتی ہیں۔ ان تحریکوں سے کوئی بھی مثبت فائدہ نہیں ملا۔ البتہ ان کا یہ نا قابل تلافی نقصان ہوا کہ ساری دنیا میں اسلام سے نفرت پیدا ہو گئی۔ دین رحمت، لوگوں کی نظر میں صرف دین تشدد بن کر رہ گیا۔
۲۶ جنوری ۱۹۳۸ کو لاہور ہائی کورٹ نے مسجد شہید گنج کے مقدمہ میں مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا۔ اگلے دن اسلامیہ کالج کے گراؤنڈ میں احتجاجی جلسہ ہو۔ اس کے بعد بادشاہی مسجد میں ایک جلسہ عام ہوا: شہر کے مختلف حصوں سے جلوس نکل رہے تھے، سب کی منزل بادشاہی مسجد تھی۔ مسجد مسلمانوں سے بھر گئی۔ مولانا ظفر علی خاں جلسہ کی صدارت کے لئے آئے۔ وہ منبر پر کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا: عزیزان ملت، میں تمہارے لئے ایک بشارت لایا ہوں۔ انھوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ ہر طرف اللہ اکبر کے نعرے گونجنے لگے۔ بڑی مشکل سے انھوں نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ آج میری آنکھوں نے یہ روح پرور منظر دیکھا کہ ہزاروں مسلم نوجوان ننگے سر اور دیوانہ وار سڑک پر چلے جا رہے ہیں۔ ایک طالب علم کہتا ہے: تم کو کیا چاہئے (What do you want) اور پھر سب کے سب جواب دیتے ہیں: مسجد شہید گنج (Shahid ganj mosque) لوگو، جب کسی قوم کے نوجوان اس طرح فیصلہ کر لیں تو کوئی طاقت انھیں کامیابی سے روک نہیں سکتی۔
شورش کاشمیری نے اپنی کتاب" بوئے گل نالہ دل دود چراغ محفل" میں مسجد شہید گنج کا قصہ تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ اس کے کچھ حصے یہاں نقل کئے جاتے ہیں:
جولائی ۱۹۳۵ میں ایک دن ہنگامہ برپا ہو گیا کہ سکھ اس مسجد کو گرا رہے ہیں۔ پورا شہر بھڑک اٹھا۔ اس روز جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد مسلمانوں نے شہید گنج کا رخ کیا۔ ہزار ہا مسلمان نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے شہید گنج کی طرف روانہ ہو گئے۔ سیکڑوں لوگ مسلح تھے ۔ اور بعض نوجوانوں نے تیزاب کی پچکاریاں بھری ہوئی تھیں۔ میں بھی تماشائی کے طور پر ساتھ ہو گیا۔
جلوس شہید گنج کے چوک پر پہنچا تھا کہ اسی وقت گھڑ سوار پولیس آ گئی۔ پیادہ پولیس بھی کافی تعداد میں تھی۔ سٹی مجسٹریٹ نریندر سنگھ نے آتے ہی مسلمانوں پر لاٹھی چارج کا حکم دے دیا۔ اہم الرسائل مئی ۱۹۹۴