تاریخ پر اثرات
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۳
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا ظہور دنیا میں ایک سماجی انقلاب کا ظہور تھا۔ یہ تاریخی تبدیلی اولاً عرب اور اطرافِ عرب میں آئی۔ اس کے بعد اس کے اثرات تمام دنیا میں پھیل گئے۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ انسانی سماج سے آزاد اور غلام کی تقسیم ہمیشہ کے لیے نابود ہو گئی۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے دنیا میں قانون کی حکمرانی کا دور شروع ہوا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ سماجی نابرابری یا سماجی نا انصافی کو جائز ٹھہرانے والے تمام فلسفے دنیا سے ختم ہو گئے۔
یہ تاریخی تبدیلی اس حد تک مؤثر ہوئی ہے کہ اب اگر کوئی سر پھر ا شخص دوبارہ انسانیت کے بارہ میں اس قسم کا تفریقی نظریہ لے کر اٹھتا ہے تو وہ اپنے آپ مٹ کر رہ جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس کی ایک مثال ہٹلر (۱۹۴۵-۱۸۸۹) ہے۔ ہٹلر کے نزدیک جرمن نسل سب سے عظیم (greatest) نسل تھی۔ اس نے کہا کہ جرمن نسل کا یہ پیدائشی حق ہے کہ وہ تمام دوسری قوموں کے اوپر حکومت کرے۔ اس کا خیال تھا کہ نسلوں اور افراد کے درمیان نابرابری ایک ناقابل تغیر فطری نظام ہے۔ اس نے آرین نسل کو انسانیت کا واحد تخلیقی عنصر قرار دیا : He regarded inequality between races and individuals as part of unchangeable natural order and exalted the Aryan Race as the sole creative element of mankind. (8/967)
مگر ہٹلر کا انجام کیا ہوا وہ وقتی طور پر یورپ میں ابھرا۔ مگر آخر کار وہ خود اپنے ملک میں تنہا رہ گیا اور مایوسی کے عالم میں برلن کے ایک بنکر میں خودکشی کر لی۔ اس کے بعد وہ بھی مٹ گیا اور اس کی اٹھائی ہوئی نازی تحریک بھی ختم ہو گئی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سماجی انقلاب برپا کیا، اس کے اثرات براہِ راست طور پر مسلم قوموں میں سفر کر رہے ہیں اور بالواسطہ طور پر سارے عالم انسانی میں۔ فرق کا سبب سوشل جسٹس یا مساوی انصاف (equal justice) کے بارہ میں محققین نے اعتراف کیا ہے کہ یہ مقصد اگر حقیقی طور پر کسی نظام میں حاصل ہوا ہے تو وہ صرف اسلام ہے۔ اس سلسلہ میں ایک بیان سوامی دیویکانند کا ہے جس کو ہم نے اوپر نقل کیا ہے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ اس انسانی مقصد کو حاصل
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues