Al-Risala · July 1994 · page 29

Religions and Solidarity among peoples.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۲۹

فجزا کم اللہ خیر الجزاء۔ ایک لبنانی عالم نے کہا: اعجبتنی قرأتك العربية۔ اس طرح اور کئی لوگوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

ایک مسیحی عالم نے اپنی تقریر میں کہا کہ چرچ اس قسم کی جو کوششیں آج کر رہا ہے، اس کے لئے کیچ ورڈ صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے باہمی اعتماد کی بحالی (confidence building) اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ انسان کو دوبارہ اس کی فطری حالت پر لے آنا۔ فطرت کے مطابق ، اصل انسانی حالت یہی ہے کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ حسن ظن کے ساتھ معاملہ کریں۔ لوگ ایک دوسرے کے بارہ میں منفی نفسیات کا شکار نہ ہوں۔

اسی فطری حالت پر اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ زندگی میں ہمیشہ بگاڑ اس وقت آتا ہے جب کہ فطرت کا یہ نقشہ بگڑ جائے۔ جب بھی ایسا ہو تو اصلاح پسند افراد کا کام یہ ہے کہ لوگوں کے فطری احساسات کو زندہ کریں تاکہ حیاتِ بشری کا نظام دوبارہ اپنی اصل حالت پر قائم ہو جائے۔

برو سیلز کے ہوٹل میں کھانا کھاتے ہوئے ایک بار ایک نوجوان سامنے کی کرسی پر بیٹھ گئے۔ گفت گو شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ روم کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے اپنی عمر ۲۳ سال بتائی۔ وہ طالب علم تھے اور ان کا نام فیبیو لیبر اٹوری (Fabio Liberatori) تھا۔ میں نے پوچھا کہ موجودہ اٹلی میں ارینجڈ میرج (arranged marriage) کارواج ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ بہت کم ہے۔ میں نے کہا کہ انڈیا میں زیادہ تر ارینجڈ میرج کا رواج ہے اور مغربی ملکوں میں زیادہ تر لو میرج (Love marriage) کا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انڈیا میں تفریق کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ جب کہ مغربی ملکوں میں شادی کے بعد تفریق کا رواج کثرت سے پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ لو میرج اور تفریق دونوں متضاد چیزیں ہیں۔ ایسی حالت میں اس کو لو میرج کہنا صحیح نظر نہیں آتا۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ موجودہ قسم کی لو میرج کو ایکسیڈنٹل میرج کہنا چاہئے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کو میری اس رائے سے اتفاق ہے۔ انھوں نے کچھ دیر سوچا پھر کہا کہ ہاں مجھے آپ کی رائے سے صد فی صد اتفاق ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues

Printed page