دلیل نبوت
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۱۴
تھا کہ اسلام کی تاریخ میں حیات انسانی کا وہ مثالی ماڈل موجود ہو جو اسلام کے پہلے دور میں بنا اور جو عام انسانوں کے لیے دائمی طور پر مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ اگلی نسل تک پہنچتے پہنچتے اسلام کی اصل اسپرٹ لوگوں میں کافی کمزور ہو چکی تھی۔
کیا وجہ ہے کہ دوسرے انقلابات کی تکمیل کئی نسلیں گزرنے کے بعد ہوئی۔ مگر اسلامی انقلاب پہلی ہی نسل میں مکمل ہو گیا۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ دوسرے نظریات کو پہلی نسل میں بڑی تعداد میں مردانِ کار حاصل نہ ہو سکے۔ جب کہ اسلامی نظریہ کو ہی پہلی ہی نسل میں مردانِ کار کی ایک طاقت اور ٹیم مل گئی جس نے غیر معمولی جد و جہد اور قربانی کے ذریعہ پہلی ہی نسل میں اس کو تکمیل کے آخری مرحلہ تک پہنچا دیا۔
اوپر جو آیت ہم نے نقل کی ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کو کہاں رکھے (الانعام ۱۴۲) اسی کا ایک پہلو یہ تھا کہ پیغمبری کی جائے پیدائش اور مقام عمل کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں اس کو پہلے ہی مرحلہ میں اعلیٰ صلاحیت کے مردان کار مل سکیں۔ ظہورِ محمدی کے زمانہ کو دیکھئے تو بظاہر عرب کا ملک اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ غیر اہم نظر آتا ہے۔ اس وقت عربوں کی تصویر دنیا کی نظر میں کیا تھی، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ فردوسی اپنے شاہنامہ میں ان کے بارہ میں لکھتا ہے کہ اے آسمان تجھ پر افسوس ہے کہ اونٹ کا دودھ پینے والے اور گوہ کا گوشت کھانے والے عربوں کا معاملہ اب یہاں تک پہنچا ہے کہ وہ ایرانی تخت کی آرزو کر رہے ہیں :
زشیر شتر خوردن و سوسمار عرب را بجائے رسید است کار کہ تخت کیان را کند بند آرزو تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو اس وقت صرف خدا ہی جان سکتا تھا کہ اس بظاہر غیر اہم قبائلی مجموعہ کے اندر ایک عظیم قوم بننے کے امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ مارگولیتھ نے عربوں کو ہیروئوں کی ایک قوم (a nation of heroes) کہا ہے۔ مگر یہ اعتراف واقعہ کے ظہور میں آنے کے بعد کا ہے۔ ظہور واقعہ سے پہلے صرف خدا ہی یہ جان سکتا تھا کہ عرب قوم کے اندر کیا امکانی اوصاف چھپے ہوئے ہیں۔
ان عربوں میں دوسری غیر معمولی صفات کے ساتھ ایک انوکھی صفت یہ تھی کہ وہ ہر قسم کے تعصب سے خالی تھے۔ ان کے مزاج میں یہ چیز رچی بسی ہوئی تھی کہ وہ حق کا فورا اعتراف کر لیں۔ ان کی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues