سیرت کی رہنمائی
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۱۶
سیرت کی رہنمائی
ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے پیغمبر اسلام کو تاریخ کا سپر کلی عکس فل انسان بتایا ہے۔ مگر آپ کی حیثیت ایک ہیرو کی نہیں تھی بلکہ ایک رہنما کی تھی۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آپ نے دراصل اپنی زندگی سے ہرزمانہ کے انسان کو سپر یم سکس (supreme success) کار از بتایا ہے۔ آپ اگر ایک طرف اعلیٰ ترین کامیاب انسان تھے تو دوسری طرف آپ کی زندگی حصول کامیابی کے لیے اعلیٰ ترین معیار (super model) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مضمون میں اسی حیثیت سے آپ کی سیرت کا مختصر مطالعہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ممکن سے آغاز
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس وقت عرب میں مختلف مسائل تھے۔ کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ رومن ایمپائراورساسانی ایمپائرنے عرب میں سیاسی نفوذ حاصل کر رکھا تھا۔ معاشرہ میں سود، زنا، شراب خوری جیسے جرائم پھیلے ہوئے تھے۔
مگر قرآن میں آپ کے اوپر پہلا حکم اترا تو وہ یہ نہیں تھا کہ طهروا الكعبة من الأصنام یاقاتل الفرس والرومان ، يا نفذ حدود الله على المجرمين۔ اس کے برعکس آپ کے اوپر پہلا حکم جو اتارا گیا وہ قرات اور تعلیم کے بارے میں تھا : إقرأ باسم ربك الذي خلق - خلق الانسان من علق ۔ اِقْرَأ وَرَبُّكَ الأكرم الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ - اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی عمل (Islamic activism) کا صحیح نقطہ آغاز یہ ہے کہ ممکن سے آغاز کیا جائے۔ بعثت کے وقت جو حالات تھے اس کے اعتبار سے تطہیر مسجد، سیاسی استقلال، اور تنفیذ حدود کا کام مطلوب ہونے کے باوجود، عملی طور پر ممکن نہ تھا۔ البتہ تعلیم اور دعوت سے آغاز کرنا پوری طرح دائرہ امکان میں تھا۔ آپ نے ، اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں ناممکن کو چھوڑ کر ممکن سے عمل اسلامی کا آغاز کیا۔ انگریزی کا مقولہ ہے کہ سیاست ممکن کا فن ہے (politics is the art of possible) میں کہوں گا کہ عمل اسلامی کا پیغمبرانہ طریقہ یہ ہے کہ ممکن سے آغاز کیا جائے :
Prophetic way of beginning is to begin from the possible.
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues