تدرّج کا اصول
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۲۱
ذریعہ آپ نے فریق ثانی کے ساتھ میدان مقابلہ کو بدل دیا۔ اب تک دونوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں پیش آرہا تھا ۔ اب دونوں کا مقابلہ نظریاتی میدان میں منتقل ہو گیا۔ اس معاہدہ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بڑے پیمانہ پر طنا جٹنا شروع ہو گیا۔ اس اختلاط کے دوران اسلام کی نظریاتی برتری اپنے آپ ثابت ہونے لگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اہل اسلام کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی اور فریق ثانی کی تعداد مسلسل گھٹ رہی تھی۔ یہاں تک کہ مزید جنگ کے بغیر محض عوامی طاقت سے اہل اسلام غالب آگئے ۔
اس سنت رسول کا مطلب یہ ہے کہ حریف سے ایک میدان میں مقابلہ اگر موثر نہ ہو رہا ہو تو مقابلہ کے میدان کو بدل کر اس کو اپنے موافق میدان میں لایا جائے جہاں اہل اسلام اپنی کوششوں کو زیادہ موثر بنا سکیں۔
تدرّج کا اصول
صحیح البخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ قرآن جب اترنا شروع ہوا تو اس میں سب سے پہلے وہ آیتیں اتاری گئیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ اس طرح (تقریباً ۱۵ سال بعد) جب لوگوں کے دل نرم ہو گئے تو اس کے بعد قرآن میں یہ حکم اترا کہ زنا چھوڑ دو اور شراب چھوڑو۔ اس کے بعد وہ کہتی ہیں کہ اگر قرآن میں یہ احکام شروع ہی میں اتار دیے جاتے تو عرب کہتے کہ ہم تو کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے ، ہم تو کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے (لا ندع الزنا ابداً ولا ندع الخمر ابداً) اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت کا نفاذ ہمیشہ ترتیب و تدرّج کے اصول پر کیا جاتا ہے۔ یعنی پہلے لوگوں کے دلوں میں اس کی آمادگی پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے بعد عملی طور پر اس کا نفاذ کیا جاتا ہے۔ کوڑے اور بندوق کے زور پر کبھی شریعت کا نفاذ ممکن نہیں ہوتا ۔ اگر کوئی شخص ایک غیر تیار شدہ معاشرہ میں محض طاقت کے زور پر شریعت کے احکام کو نافذ کرنا چاہے تو یہ سنتِ رسول کے خلاف ہوگا۔ اور سنتِ رسول کی خلاف ورزی کر کے کوئی کامیابی اس دنیا میں ممکن نہیں۔
آئیڈیلزم کے بجائے پریکگیٹزم
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ اپنی ذات کے معاملہ میں آئیڈیلزم کواختیارکرنے کی کوشش کرو۔ مگر دوسروں سے معاملہ کرنے میں پریکمیٹک حل
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues