جنگ پر بیعت نہیں
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۳۴
جنگ پر بیعت نہیں
امن ایک ایجابی اہمیت کی چیز ہے، جبکہ جنگ کی کوئی ایجابی اہمیت نہیں۔ جنگ تمام تر ایک سلبی نوعیت کی چیز ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ امن انسانی معاشرہ کی ایک مستقل ضرورت ہے۔ جنگ صرف وقتی طور پر بطورِ دفاع مطلوب ہو سکتی ہے۔ وہ بھی ہمیشہ نہیں بلکہ صرف اس وقت جبکہ امن کی برقراری کی ہر ممکن تدبیر ناکام ہو چکی ہو۔ اور مقابلہ کے سوا کوئی اور صورت سرے سے باقی ہی نہ رہے۔
امن و جنگ کا یہ فرق اتنا قطعی ہے کہ ہر مذہب میں اس کو مستقل اصول کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں کسی مذہب کا کوئی استثناء نہیں۔ اسلام جو ایک غیر محرف مذہب ہے، اس میں بھی امن و جنگ کے بارہ میں یہی تصور پایا جاتا ہے جو اوپر بیان ہوا۔ چنانچہ قرآن میں (الصلح خیر، صلح بہتر ہے) کی آیت نازل ہوئی۔ مگر قرآن میں کہیں بھی (الحرب خیر، جنگ بہتر ہے) کے مفہوم کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ اسی طرح (لا تمنّوا لقاء العدو واسألو الله العافية) کی حدیث موجود ہے۔ مگر اس کے برعکس اس مفہوم کی کوئی حدیث موجود نہیں کہ لوگو دشمن سے جنگ کے متمنی بنو اور اللہ سے حرب و ضرب کی دعا کرو۔ یہ بات قرآن و حدیث میں نہایت واضح ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ایک طبقہ ظاہر ہوا ہے جو اپنے آپ کو اسلام پسند کہتا ہے مگر زیادہ صحیح طور پر اس کا نام جنگ پسند ہونا چاہئے کیوں کہ انھیں جنگ کی باتیں کرنا بہت پسند ہے۔ انھوں نے اقبال کو اپنا ہیرو بنایا ہے جس نے شاعرانہ تخیل کے تحت کہا تھا:
خودی ہے تیغ فساںلاالٰہ الااللہ
اگرچہ اپنی ذات کے لئے یہ لوگ بھی پوری طرح امن پسند ہیں۔ ان کا اصول ہے: جنگ نہ کرو البتہ جنگ کی باتیں خوب کرو۔ وہ خود اپنی ایک انگلی بھی کٹانا نہیں چاہتے مگر اپنی تقریر و تحریر میں سر کٹانے کو خوب گلورینفائی کرتے ہیں۔ اپنی اس دوعملی کے نتیجہ میں وہ خود تو ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔ البتہ سادہ لوح مسلمان ان کی باتوں سے متاثر ہو کر مارے جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues