Al-Risala · August 1994 · page 47

فرشتہ کی مدد

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۴۷

فرشتہ کی مدد

عن ابی ھریرۃ قال : ان رجلا شتم ابابکر، والنبی صلی اللہ علیہ وسلم جالس یتعجب ویتبسم،فلمااکثرردعلیہ بعض قوله، فغضب النبي صلی اللہ علیہ وسلم، وقام، فلحقه ابوبکر، وقال: يارسول الله كان يشتمنى وانت جالس، فلما رددت عليه بعض قوله غضبت وقمت قال : كان معك ملك يردعليه، فلما رددت عليه وقع الشيطان (رواه احمد)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابو بکر کو برا کہا (حضرت ابو بکر چپ رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیٹھے ہوئے تھے، آپ تعجب کر رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ پھر جب اس شخص نے بہت زیادہ کہاتو حضرت ابو بکر نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا۔ آپ وہاں سے اٹھ گئے۔ حضرت ابو بکر چل کر آپ سے ملے اور کہا کہ اے خدا کے رسول وہ آدمی مجھ کو برا کہہ رہا تھا اور آپ وہاں بیٹھے ہوئے تھے (اور خوش تھے) لیکن جب میں نے اس کی بعض بات کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو گئے اور وہاں سے اٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ (جب تم چپ تھے) تو تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو اس کا جواب دے رہا تھا۔ مگر جب تم نے خود اس کی بات کا جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آگیا۔

ایک آدمی آپ کو برا کہے ۔ اس کے جواب میں آپ بھی اس کو برا کہیں تو بات بڑھتی ہے۔ جس آدمی نے پہلے صرف ایک سخت لفظ کہاتھا۔ اسکے بعد وہ سب وشتم پر اتر آتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ پاؤں سے آپ کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ آخر میں پتھر اٹھا لیتا ہے۔ آپ کا جواب نہ دینا اس کو ابتدائی حد پر روک دیتا ہے، اور آپ کا جواب دینا اس کو اس کی آخری حد پر پہنچا دیتا ہے۔ اس کے بجائے اگر ایسا ہو کہ ایک شخص آپ کو برا کہے یا گالی دے مگر آپ خاموش ہو جائیں آپ اشتعال انگیز کلام کے باوجود مشتعل نہ ہوں، تو آپ دیکھیں گے کہ اس کا لہجہ آہستہ آہستہ دھیما ہو رہا ہے۔ اس کے غبارے کی ہوا نکلنا شروع ہو جائے گی یہاں تک کہ دھیرے دھیرے وہ اپنے آپ چپ ہو جائے گا۔ آپ کا بولنا دوسرے کو مزید بولنے پر آمادہ کرتا ہے، اور اگر آپ چپ ہو جائیں تو آپ کا

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page