Al-Risala · August 1994 · page 49

۴۸ الرسائل اگست ۱۹۹۴

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۴۹

عام طور پر لوگ جواب دینے کو دفاع سمجھتے ہیں۔ اگر کسی شخص سے کوئی تکلیف پہنچے تو فوراً اس سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ دفاع کر رہے ہیں ، مگر اس سے بھی زیادہ بڑا دفاع یہ ہے کہ زیادتی کے جواب میں آدمی خاموش ہو جائے۔ مقابلہ کے بجائے وہ اعراض کا طریقہ اختیار کرے :

خاموشی بے عملی نہیں ہے بلکہ وہ سب سے بڑا عمل ہے۔ آدمی جب جوابی ٹکراؤ کرتا ہے تو وہ صرف اپنی ذات پر بھروسہ کر رہا ہوتا ہے۔ مگر جب وہ زیادتی کے بعد چپ ہو جاتا ہے تو وہ پورے نظام فطرت کو اپنی طرف سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑا کر دیتا ہے۔ ذاتی دفاع ایک کمزور دفاع ہے۔ اور فطرت کا دفاع زیادہ طاقت ور دفاع۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا میں یہ نظام قائم کیا ہے کہ جب بھی کہیں کوئی گندگی پیدا ہوتی ہے تو فوراً بے شمار بیکٹیریا وہاں جمع ہو کر اس مادہ کو (decompose) کرنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ گندگی کا خاتمہ کر سکیں۔ اسی طرح یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قائم ہو ا نظام ہے کہ جب کوئی انسان کسی کے اوپر زیادتی کرے تو پورا نظام فطرت اس کی اصلاح کے لیے حرکت میں آ جائے۔ اس اعتبار سے خاموشی گویا ایک قسم کا انتظار ہے۔ جب آدمی زیادتی پر خاموش ہو جاتا ہے تو گویا وہ اپنے آپ کو حالتِ انتظار کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ عالی ضمیر کو کام کرنے کا موقع دے کر اس کے نتیجہ کا منتظر ہو جاتا ہے۔

ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ وہ خود اقدام کر کے فطرت کے عمل میں بگاڑ نہ پیدا کرے ۔ بلکہ انتظار کی پالیسی اختیار کر کے فطرت میں ہونے والے عمل کے ساتھ تعاون کرے۔ کارکن کی ضرورت ادارہ الرسالہ کو ایک نوجوان کارکن کی ضرورت ہے جو ملک کے مختلف حصوں کا سفر کر کے الرسالہ کے خریدار بنائے اور اس کی ایجنسی قائم کرے۔ تفصیلات کے لیے خواہش مند حضرات خط و کتابت فرمائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page