Al-Risala · September 1994 · page 57

خدا کا عقیدہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۵۷

معاملہ میں یہاں انتخاب (option) ثابت شدہ (proved) اور غیر ثابت شدہ (unproved) کے درمیان نہیں ۔ بلکہ ہر انتخاب ورک ایبل (workable) اور نان ورک ایبل (non-workable) کے درمیان ہوتا ہے ۔

مثال کے طور پر اہل سائنس عام طور پر کشش (gravity) کے نظریہ کو مانتے ہیں مگر یہ ماننا اس لیے نہیں کہ کشش ثقل کوئی ثابت شدہ نظریہ ہے۔ نیوٹن نے سیب کو درخت سے گرتے ہوئے دیکھ کر یہ سوال کیا تھا کہ سیب نیچے کیوں آیا اور پھر تحقیق کر کے اس نے کشش ارض کا نظریہ دریافت کیا۔ مگر ایک سائنس داں نے کہا کہ نیوٹن کو اس پر تعجب ہوا تھا کہ سیب نیچے کیوں آیا۔ مجھے یہ تعجب ہے کہ سیب اوپر کیسے گیا۔

درخت کی جڑنیچے کی طرف جاتی ہیں اور اس کا تنا اوپر کی طرف۔ اگر جڑ کے نیچے جانے کا سبب یہ بتایا جائے کہ زمین میں کشش ہے تو تنا اور شاخوں کے اوپر جانے کی توجیہ کس طرح کی جائے گی ۔

یہی معاملہ تمام سائنسی نظریات کا ہے۔ سائنس میں جب بھی کسی نظریہ کو مانا جاتا ہے تو وہ غیر ثابت شدہ کے مقابلہ میں ثابت شدہ کو ماننا نہیں ہوتا۔ بلکہ نان ورک ایبل تھیری کے مقابلہ میں ورک ایبل تھیری کو ماننا ہوتا ہے۔ ٹھیک یہی اصول نظریہ خدا کے معاملہ میں بھی چسپاں ہوتا ہے۔ کشش کے معاملہ میں ہمارے لیے جو انتخاب ہے وہ با کشش مادہ اور بے کشش مادہ میں نہیں ہے۔ بلکہ با کشش مادہ اور غیر موجود مادہ میں ہے۔ چونکہ غیر موجود مادہ کا نظریہ ورک ایبل نہیں ہے۔ اس لیے ہم نے با کشش مادہ کا انتخاب لے رکھا ہے، خالص علمی اعتبار سے یہی معاملہ خدا کے عقیدہ کا بھی ہے۔ کائنات کے اندر تخلیق کی صلاحیت نہیں ، وہ اپنے اندر کے ایک ذرہ کو نہ گھٹا سکتی اور نہ بڑھا سکتی۔ اس لیے ، دوسرے تمام سائنسی نظریات کی طرح ، یہاں بھی ہمارے لیے انتخاب باخدا کائنات (universe with God) اور بے خدا کائنات (universe without God) میں نہیں ہے۔ بلکہ باخدا کائنات اور غیر موجود کائنات (non-existent universe) میں ہے۔ چوں کہ ہم غیر موجود کائنات کا انتخاب نہیں کر سکتے ۔ اس لیے ہم مجبور ہیں کہ باخدا کائنات کے نظریہ کا انتخاب کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page