علماء کامسلک
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۵۹
ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے موجودہ حالات اور ملک کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے اس سے زیادہ کوئی ضروری چیز نہیں ہو سکتی کہ فرقہ واریت کو جو مذہب کے نام پر ابھاری گئی ہے ، ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے ۔ اگر ہمیں بربادی سے بچنا ہے تو فرقہ پرستی کے تمام دروازوں کو ہمیں بند کرنا پڑے گا ۔ اور ہندو مسلم تعلق کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بنیاد پر قائم کرنا ہوگا ۔
ضرورت ہے کہ علماء کے اس مسلک کو جو مکمل طور پر قرآن وسنت پر مبنی تھا ، اس کو دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ زندہ کیا جائے ۔ مسلمانانِ ہند کے لیے بلاشبہ صحیح اور مفید پالیسی یہی ہے کہ اس ملک میں دونوں فرقوں کے تعلق کو اخوت اور اتحاد کی بنیاد پر قائم کیا جائے ۔ الرسالمشن پچھلے ۲۰ سال سے یہی خدمت انجام دے رہا ہے ۔ اس مشن کو اسلام اور علماء اسلام کی مکمل تائید حاصل ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس اصلاحی مہم کو مزید مؤثر اور کامیاب بنایا جائے ۔ اس سلسلہ میں چند بنیادی نکات حسب ذیل ہیں :
۱۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان برادرانہ احساس کو زیادہ سے زیادہ ابھارا جائے ۔ ان کے باہمی تعلق کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے ۔ اس کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کی جائے کہ دونوں فرقوں کے درمیان معتدل فضا میں برادرانہ اختلاط ہونے لگے ۔
۲۔ مسلمان احتجاج غیر کے بجائے تعمیر ذات کو اپنی مستقل پالیسی بنائیں ۔ وہ احتجاج اور مظاہرہ اور جلوس کے طریقہ کو یکسرچھوڑدیں۔ شکایت ۔ شکایت کے مواقع پر وہ ٹکراؤ سے بچیں اور ہمیشہ پر امن تدبیر کے ذریعہ نزاعی معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں ۔ نزاع کے موقع پر ٹکراؤ کا طریقہ نزاع کو بڑھاتا ہے اور مخاصمت کا طریقہ نزاع کو ختم کر دیتا ہے ۔
۳۔ تعلیم اور اقتصادیات کو سب سے زیادہ قابل توجہ قرار دیا جائے ۔ مسلمانوں میں تعلیم اگر عام ہو اور ان کی اقتصادی حالت بہتر ہو جائے تو اس کے بعد تمام مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے ۔ ۴۔ ہر مقام پر ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ امن کمیٹیاں بنائی جائیں ۔ اس کے ذریعہ یہ کوشش ہو کہ امن اور اتحاد کو برہم کرنے والے ہر واقعہ کو ابتداہی میں حسن تدبیر سے ختم کر دیا جائے ۔ ۵۔ لوگوں میں یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنا سیکھیں۔ رایوں کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کریں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues