Do you feel you are enjoying mental peace.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۰
سنت رسول کا مطالعہ ا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی وسیع تر تقسیم میں تین قسموں میں نظر آئے گی۔ اول ، مکی دور ۔ یہ وہ دور ہے جب کہ اہل اسلام کے ہاتھ میں سیاسی قوت نہیں تھی۔ دوم مدنی دور کا نصف اول ۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مدینہ میں دو متوازی نظام قائم تھا ۔ اس کا اقرار صحیفہ مدینہ میں ان لفظوں میں کیا گیا ہے : لليهود دينهم وللمسلمين دينهم ۔ سوم، مدنی دور کا نصف ثانی ۔ یہ وہ دور ہے جب کہ ماحول میں اہل اسلام کا غیر مشترک اقتدار قائم ہو گیا۔ میں نے کہا کہ سورہ النساء کی مذکورہ آیت ( يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت) مدنی دور کے نصف اول والے حالات سے تعلق رکھتی ہے۔ آج اکثر ملکوں میں یہی صورت حال ہے۔ مثلاً برطانیہ میں ایک طرف برٹش کورٹ ہے ۔ دوسری طرف مساجد اور اسلامی مراکز کے علماء ہیں جن کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ العلماء ورثۃ الانبیاء ۔ برٹش کورٹ گویا کعب بن اشرف کے مماثل ہے ۔ اور علماء (یا دار الافتاء) رسول کے نمائندہ ۔ اب مذکورہ آیت کے مطابق مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ ان کے درمیان جب کوئی نزاع پیدا ہو تو وہ اپنے معاملہ کو ملکی عدالت میں نہ لے جائیں ۔ بلکہ علماء یا دار الافتاء کے سامنے رکھ کر اس کا شرعی فیصلہ کریں اور قرآن و سنت کی روشنی میں جو فیصلہ دیا جائے اس کو بے چون و چرا تسلیم کر لیں ۔
لندن میں مقیم ایک ہندستانی بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کا رسالہ پڑھتا تھا ۔ مگر اب میں نے اس کو پڑھنا چھوڑ دیا ۔ میں نے پوچھا کیوں ۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے خلاف کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ اور آپ کے خلاف مضامین چھپ رہے ہیں ۔ ان کو دیکھنے کے بعد میں آپ کے مشن کے بارہ میں مشتبہ ہو گیا اور آپ کی تحریروں کو پڑھنا چھوڑ دیا ۔
میں نے کہا کہ مخالفانہ مضامین تو ہر ایک کے خلاف لکھے گئے ہیں ۔ تبلیغی جماعت جیسی بے ضرر جماعت کے خلاف بھی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں ۔ حتیٰ کہ اکابر میں سے کوئی بھی شاید ہی اس قسم کی تحریروں سے بچا ہو۔ اس وقت میرے پاس محمد سرور بن نایف زین العابدین کی کتاب الحکم بغير ما انزل الله واھل الغلوتھی۔ یہ ۔ یہ کتاب دار القلم ، برنگھم (4422 449-021 Tel.) نے چھاپی ہے۔ میں نے اس کا صفحہ ۲۰۸ دکھایا ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگوں نے امام النووی کے بارہ میں لکھا ہے کہ انھوں نے اپنی شرح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ، حضرت ابوذر پر اور اسلام پر
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues