Al-Risala · September 1994 · page 43

Father Chrismas, get me a computer.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۳

ان نقف لمواجهة الخطر بكل قوة (اراد القتال العسكرى)، فقلت له ان الامرالذی يُحيّرنى ولم اجد له تفسير، هو لماذا اصبح مسلموا العصر الحديث يعرفون كل شئ ماعدا الصبر. فلا يوجد شخص واحد فى العالم الاسلامى ينادى بالصبر رغم ان الصبر مذكور فى القرآن اكثر من القتال. فقال هذا يعتمد على الذى تقصده بالصبر. فقلت الصبر لا يعنى اللاعمل بل العمل مع التخطيط - فسكت. یہ ایک نئی سوچ ہے جو عالم اسلامی میں الرسالة مشن کے ذریعہ پیدا ہوئی ہے اور دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ میں نے دیکھا کہ کئی عرب نوجوانوں نے اپنی پوری زندگی اس مشن کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ اس سلسلہ میں مزید تفصیلات بیان کرنے کی گنجائش سفر نامہ میں نہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ حال ہی میں انھوں نے انگریز نو مسلم یوسف اسلام کی تقریر سنی۔ وہ پوری کی پوری احتجاجی انداز کی تھی۔ انھوں نے اپنی پوری تقریر میں اعداءِ اسلام کی سازشوں اور مظالم کا ذکر کیا۔ مجھے یہ بات عجیب معلوم ہوئی۔ کیوں کہ یوسف اسلام نے جب اسلام قبول کیا تو ابتدائی زمانہ میں ان کا یہ انداز نہ تھا۔ ان کی ابتدائی زمانہ کی ایک تقریر الرسالہ میں شائع ہوچکی ہے۔ اس میں واضح طور پر انھوں نے یہ اقرار کیا ہے کہ اسلام کے روحانی پہلو نے ان کو متاثر کیا اور اس طرح وہ اسلام میں داخل ہوئے۔

اس معاملہ کی تحقیق کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی صحبت کے نتیجہ میں ان کے اندر یہ تبدیلی آئی ہے۔ مغربی دنیا میں کثیر تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ مگر حقیقی معنوں میں کوئی دعوتی کام وہ نہیں کر رہے ہیں۔ البتہ خود اپنی فطرت کے زور پر یا ذاتی مطالعہ سے مغرب میں اکثر لوگ اسلام قبول کرتے رہتے ہیں۔ یہ نومسلم جب اپنی سابقہ سوسائٹی سے کٹتے ہیں تو وہ اپنے لئے نئی سوسائٹی چاہتے ہیں۔ اس کمی کی تلافی کے لئے قدرتی طور پر وہ مغرب میں مقیم مسلمانوں سے قریب ہوتے ہیں۔ یہ مسلمان زیادہ تر

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page