Al-Risala · October 1994 · page 5

ظلم یا تازیانہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۵

ظلم یا تازیانہ

فدولا اذ جاء هم بأسنا تضرعوا ولكن پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ قست قلوبهم وزين لهم الشيطان وہ گڑگڑائے، بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے اور شیطان ما كانوا يعملون (الانعام ۴۳) ان کے عمل کو ان کی نظر میں خوشنما کر کے دکھاتا رہا۔ کسی قوم پر جب مذکورہ نوعیت کی سختی آتی ہے تو وہ خود انسانوں ہی کی طرف سے آتی ہے۔ یعنی ایک انسانی گروہ دوسرے انسانی گروہ کو اپنی زیادتیوں کا نشانہ بناتا ہے۔ اب ایسے واقعات کو دیکھنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے اس کو تعلیم خداوندی کی روشنی میں دیکھنا اور دوسرا ہے اس کو تزئین شیطانی کی روشنی میں دیکھنا۔ تعلیم خداوندی کے اعتبار سے جب اس کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ بأس اللہ ہے۔ بظاہر اگر چہ وہ انسانوں کی طرف سے ہے مگر حقیقۃ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ وہ خدا کا تازیانہ ہے نہ کہ کسی انسان کا ظلم۔

یہ واقعات کو ربانی نظر سے دیکھنا ہے۔ جب پیش آنے والی سختی کو اس نظر سے دیکھا جائے تو اس کے نتیجہ میں تضرع اور رجوع الی اللہ پیدا ہو گا۔ لوگ خدا کی طرف متوجہ ہوں گے، وہ اپنے اعمال کا احتساب کریں گے، وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کرنے لگیں گے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ان واقعات کو تزئین شیطانی کی روشنی میں دیکھا جائے، اب یہ ہو گا کہ بظاہر ہر جس طرف سے سختی آرہی ہے اسی کو لوگ سب کچھ سمجھ لیں گے، وہ صاحب سختی ہی کو سبب سختی قرار دیدیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کی سوچ اور ان کے عمل کا سارا رخ انھیں انسانوں کی طرف ہو جائے گا جن کو وہ بظاہر سختی کرتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

اب وہ خدا سے تضرع کرنے کے بجائے انسانوں کے خلاف احتجاج کریں گے۔ وہ اپنا احتساب کرنے کے بجائے دوسری قوموں سے لڑنا شروع کر دیں گے۔ پہلی صورت میں ان کی آبادیاں دعا، عبادت، تواضع، اصلاح اعمال جیسی چیزوں سے معمور ہوتیں، مگر دوسری صورت میں ان کی مجلسیں شکایت، احتجاج، شکرائو، انسانوں سے نفرت جیسی باتوں سے گونجنے لگیں گی۔ وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف تشدد اور جنگ کا بازار گرم کر دیں گے۔ پہلی صورت میں اگر وہ خالق سے پختہ تو دوسری صورت میں وہ مخلوق سے نبرد آزما ہو کر رہ جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page