سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۹
اور دفاتر رنگ برنگ روشنیوں کے ساتھ جگمگا ر ہے تھے۔ مگر اس ظاہری جگمگاہٹ کے پیچھے یہاں کی جو حقیقی اقتصادی حالت ہے وہ اطمینان بخش نہیں۔ صنعتی دور انسان کے لئے بہت سی خوبیاں لے آیا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس نے ایسے مسائل بھی پیدا کر دئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھے۔ لندن کے بعد برمنگھم یہاں کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔
یہاں میں نے ایک صاحب سے کہا کہ برطانیہ اس وقت ریسیشن کے مرحلہ سے گزر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اتنا ہی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہاں ریسیشن (recession) آیا۔ پھرسلم (Slump) آیا۔ اور اب ہم ڈپریشن (depression) کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ان تین دوروں کو سادہ طور پر اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ ـــــــــ زیادہ خریداری، پھر کم خریداری، اور پھر بے خریداری۔
برمنگھم میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان ہیں۔ وہ یہاں کی آبادی میں تقریباً ۱۰ فیصد ہیں۔ یہاں کی چھوٹی بڑی مسجدوں کی تعداد ۹۰ تک پہنچتی ہے۔ ایک بار برمنگھم میں سفر کرتے ہوئے ہم ایک ایسے علاقہ سے گزرے جو مسلم علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ایک دکان کے سامنے ایک اشتہار لگا ہوا تھا "جہاد کشمیر کانفرنس " میں نے سوچا کہ جہاد کا نفرنس کی ہر طرف دھوم ہے مگر کوئی نہیں جو حل کانفرنس کرنے کا اہتمام کرے۔ موجودہ زمانہ میں دنیا امن کانفرنس کر رہی ہے اور مسلمان جنگ کانفرنس۔ میں جہاں ٹھہرا ہوں وہ نہایت پر فضا علاقہ ہے۔ کھلے کھلے مکانات قرینہ کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کے چاروں طرف خوبصورت لان اور وسیع پارک کے مناظر ہیں۔ میں نے اپنے میزبان سے پوچھا کہ اس علاقہ کا نام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک گاؤں ہے، ،اوراس کانام ارلس وڈ (Earls wood) ہے۔ انڈیا میں گاؤں پھٹیڑی ہوئی بستی کا نام ہے۔ مغربی ملکوں میں گاؤں سے مراد وہ خوبصورت بستیاں ہیں جو شہروں کے باہر ہیں۔ جہاں شہری ہنگاموں کے سوا تمام جدید ترین سہولت پوری طرح موجود ہو۔
برطانیہ کے وقت میں اور انڈیا کے وقت میں ساڑھے چار گھنٹہ کا فرق ہے۔ یہاں میں نے عشا کی نماز پڑھی تو خیال آیا کہ عین اسی وقت اگر میں انڈیا پہنچ جاؤں تو وہاں کی مسجدوں میں عصر کی نماز کی تیاری ہو رہی ہوگی۔ یعنی جس وقت یہاں رات ہے عین اسی وقت وہاں دن ہے۔ اس فرق پر
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues