مسئلہ یہاں ہے
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۵۶
مسئلہ یہاں ہے
اسپین کے جنوب مشرقی کنارے پر جہاں اٹلانٹک سمندر اور میڈی ٹیرینین سمندر ملتے ہیں، ایک پہاڑ ہے جو جبرالٹر کے نام سے مشہور ہے۔ یہ اسلامی فوج کے مشہور سردار طارق بن زیاد کے نام پر ہے۔ اس کے بارہ میں تاریخ میں یہ الفاظ لکھے گئے کہ جبرالٹر کا نام عربی لفظ جبل الطارق سے لیا گیا ہے۔ یہ طارق بن زیاد کے اعزاز میں تھا جس نے ۷۱۱ء میں اس کو مسخر کیا تھا : Its name is derived from the Arabic Jabal Tariq (Mt. Tarik) honouring Tariq ibn اب ایک اور پہاڑ کا قصہ دیکھیے جو اس کے تقریباً ساڑھے گیارہ سو سال بعد پیش آیا، یہ اس پہاڑ کی بات ہے جو ماؤنٹ ایورسٹ کے نام سے مشہور ہے۔ انڈیا کی سرحد پر واقع اس پہاڑی چوٹی کے بارہ میں قدیم انسان کو کچھ زیادہ معلوم نہ تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ۱۸۵۲ء میں پہلی بار ایک انگریز افسر نے حساب لگا کر بتایا کہ یہ کرہ ارض کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ چنانچہ اس دریافت کے تیرہ سال بعد مذکورہ انگریز سر جارج ایورسٹ کے نام پر اس پہاڑ کا نام رکھا گیا۔ وہ ۱۸۳۰ء سے ۱۸۴۳ء تک انڈیا کا سرویر جنرل تھا :
It wasn't until 1852 that British surveyors identified it as the highest point on the جبل الطارق اور ماؤنٹ ایورسٹ محض دو پہاڑوں کے نام نہیں ہیں، یہ دو علامتی واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ اٹھارویں صدی میں مسلمان اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے متصف تھے، اس لیے پہاڑ کی چوٹیوں پر ان کا نام لکھا جاتا تھا۔ انیسویں صدی میں مسلمان تنزل کا شکار ہوگئے اور اعلیٰ اخلاقیات کی یہ صفت یورپی قوموں میں چلی گئی۔ چنانچہ اب پہاڑ کی چوٹیوں پر یورپی لوگوں کا نام لکھا جانے لگا۔ اس دنیا میں بڑائی کسی قوم کا نسلی حق نہیں۔ اس دنیا میں بڑائی اس کو ملتی ہے جو اعلیٰ اخلاقی اوصاف کا ثبوت دے۔ ماضی اور حال کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues