تنقید کوسن کر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۸
تنقید کوسن کر
خلیفہ ہارون الرشید (۱۹۳ - ۱۷۰ھ) نے ایک بار اپنے وزیر سے کہا کہ مجھ کو کسی بزرگ کے پاس لے چلو۔ وہ خلیفہ کو الفضیل بن عیاض (۱۸۷- ۱۰۵ھ) کے پاس لے گیا۔ اس سلسلہ میں لمبا قصہ کتابوں میں نقل ہوا ہے۔
خلیفہ کے ساتھ اس کے کئی درباری تھے۔ انھوں نے فضیل سے مصافحہ کیا۔ خلیفہ نے بھی مصافحہ کیا۔ خلیفہ نے اپنا ہاتھ جب فضیل کے ہاتھ میں رکھا تو انھوں نے کہا کہ کتنا زیادہ نرم ہے یہ ہاتھ ، اگر کل کے دن وہ اللہ کے عذاب سے بھی بچ جائے (يالها من كف ما ألينها، إن نجوت عـنـدَاً مـن عذاب الله عز وجل)
اس کے بعد خلیفہ نے فضیل سے کہا کہ کچھ نصیحت کیجئے۔ انھوں نے تلخ نصیحت کے انداز میں کچھ کلمات کہے۔ خلیفہ نے کہا کہ اور کچھ فرمائیے ۔ فضیل نے مزید کچھ کہا۔ اس طرح وہ سخت تنقیدی انداز میں دیر تک خلیفہ کو ڈرانے والی باتیں کرتے رہے۔ خلیفہ ان کی نصیحتوں کو سن کر رو پڑا۔ آخر میں اس نے اپنے وزیر سے کہا کہ جب تم مجھ کو کسی آدمی کے پاس لے جاؤ تو اسی طرح کے آدمی کے پاس لے چلو ۔ یہ مسلمانوں کے سردار ہیں (إذا دللتني على رجل فدلني على مثل هذا، هذا سيد المسلمين)
آدمی کے اندر اگر صحیح مزاج ہو تو وہ نصیحت کو سن کر اس سے سبق لے گا ، خواہ یہ نصیحت کتنے ہی سخت تنقیدی الفاظ میں کی گئی ہو۔ ایسا آدمی نصیحت کو اس کے معنوی اعتبار سے دیکھے گا نہ کہ اس کے لفظی اعتبار سے، وہ اس کو اصولی حیثیت سے لے گا نہ کہ ذاتی حیثیت سے۔
صحیح مزاج اگر بادشاہ کے اندر ہو تو وہ بھی تنقید کوسن کر اسے برداشت کرے گا۔ اور ایک معمولی آدمی بھی اگر صحیح مزاج نہ رکھتا ہو تو وہ تنقید کوسن کر بگڑ جائے گا۔ تنقید کسی آدمی کو پہچاننے کی سب سے زیادہ یقینی کسوٹی ہے۔ تنقید کوسن کر جو آدمی اپنے ذہنی توازن کو نہ کھوئے وہی اعلیٰ انسان ہے۔ اور جو شخص تنقید کوسن کر بگڑ جائے ، اس کے متعلق یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ انسان والی خصوصیات رکھتا ہے۔
تنقید کسی آدمی کی انسانیت اور اس کے تقوی کی پہچان کراتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues