Al-Risala · December 1994 · page 10

ماضی اور حال

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۰

ماضی اور حال

مسیح الملک حکیم اجمل خاں (۱۹۳۰-۱۸۶۲) کو طب اور علاج میں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ لارڈ ہارڈنگ ۱۹۱۰ سے ۱۹۱۶ تک ہندوستان کے وائسرائے تھے ۔ حکیم اجمل خاں کی شہرت سے متاثر ہو کر وائسرائے نے اپنے پرائیویٹ سیکریٹری کو ان کے پاس طبی مشورہ کے لیے بھیجا۔ وہ دہلی میں ان کے مطب میں آئے تو دیکھا کہ وسیع مطب آدمیوں سے بھرا ہوا ہے ۔ سیکریٹری پر اس کا بہت اثر ہوا ۔ واپس جا کر اس نے وائسرائے سے اس کا ذکر کیا۔ وائسرائے نے کہا کہ وہ ہندوستان کے مقناطیس ہیں : He is the magnet of India. حکیم اجمل خاں کی اسی عظمت ومقبولیت کایہ نتیجہ تھا کہ جب وہ قومی سیاست میں داخل ہوئے تو اس کے اندر انھوں نے مرکزی مقام حاصل کر لیا۔ دہلی میں ان کے مکان (شریف منزل) میں وقت کی بڑی بڑی شخصیتیں جمع ہوتی تھیں ۔ مثلاً پنڈت موتی لال نہرو، بال گنگادھر تلک ، لالہ لاجپت رائے ، سی آر داس، مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا محمد علی ، ڈاکٹر محمد اقبال ، وغیرہ۔ حکیم صاحب نے مسلم ملکوں کے علاوہ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا وغیرہ کے سفر بھی کیے۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب کہ جدید میڈیکل سائنس ابھی اپنے عروج کو نہیں پہونچی تھی ۔ اس زمانہ میں ابھی طب کی اہمیت پوری طرح باقی تھی ۔ اس وقت مسلمان فن طب کے امام تھے۔ آج ۔ آج ان کی یہ حیثیت ختم ہو چکی ہے ۔ روایتی طب کے زمانہ میں وہ دنیا سے آگے تھے سائنسی طب کے زمانہ میں وہ دنیا سے پیچھے ہو گئے۔

سائنس اور سائنسی طب میں مسلمانوں کی اس پسماندگی کی ذمہ داری تمام تر مسلم رہ نماؤں پر ہے ۔ علماء نے مذہبی بنیاد پر اور لیڈروں نے سیاسی بنیاد پر اور کچھ " مفکرین " نے نظریاتی بنیاد پر مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روکا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان تعلیم میں کم از کم ایک سو سال دنیا سے پیچھے ہو گئے۔ علم کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے بعد مشرک قیدیوں کے ذریعہ مسلمان بچوں کو تعلیم دلائی۔ حقیقت یہ ہے کہ علم ہر حال میں مطلوب ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر علم سے روکنا ہر گز جائز نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues

Printed page