Al-Risala · February 1994 · page 13

تاریخ کا سبق

الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۳

طرف پیش قدمی شروع نہ ہو چکی ہوتی اور اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل اگر جان بچا کر اسپین پہنچنے میں کامیاب نہ ہوا ہوتا تو اسلامی تاریخ میں مسلم اسپین اور یورپ میں اسلام کے داخلہ کا باب شاید سرے سے حذف ہو جاتا۔

یہی معاملہ ایک اور صورت میں ہندوستان میں پیش آیا۔ مغل بادشاہ ہمایوں کو شیر شاہ سوری کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ ۱۵۴۰ء سے لے کر ۱۵۵۵ تک وہ دہلی کے تخت سے محروم رہا۔ اس دوران وہ بھاگ کر ایران پہنچا اور وہاں شاہ تہماسپ سے مدد مانگی۔ ایرانی بادشاہ نے ایک بڑی فوج اور ضروری سامان اس کے حوالے کیا۔ اس طرح ایرانیوں کی مدد سے ہمایوں نے از سرِ نو دہلی کے تخت پر قبضہ کیا۔ ۱۵ سال کے وقفہ کے بعد مغل سلطنت دوبارہ دہلی میں قائم ہوئی۔

مگر دوبارہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغل سلطنت کے نظام میں ایران کے سیاسی اور تہذیبی اثرات داخل ہو گئے۔ ایرانی اس وقت آرٹ اور فنون لطیفہ کے دلدادہ تھے۔ چنانچہ ایران سے آرٹسٹ، پینٹر، نقاش اور شاعر قسم کے لوگ بڑی تعداد میں ہندوستان آنے لگے۔ ہندوستان کا مسلم سماج گہرے طور پر اس سے متاثر ہوا، اور ایرانی تہذیب کے رنگ میں رنگ گیا (17/132) تاریخ کے اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ وہ سبق یہ کہ جب آپ کسی سے مدد لے کر کامیابی حاصل کریں تو وہ کامیابی صرف آپ کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ اس میں اس شخص یا گروہ کا بھی دخل ہو جائے گا جس کی مدد سے آپ نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ ہزار کوشش کے باوجود اپنے آپ کو اس انجام سے نہیں بچا سکتے۔

ایسی حالت میں کام کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو کام کیا جائے خود اپنی بنیاد پر کیا جائے ۔ زیادہ بڑے کام کا شوق نہ کیا جائے بلکہ چھوٹی سطح پر کام شروع کر کے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔ یہی سچی کامیابی حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔

حقیقی کامیابی حاصل کرنے کا واحد طریقہ بتدریج ہے ، چھلانگ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues

Printed page