بے معنی کلام
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۲۲
بے معنی کلام
عربی ہفت روزه الدعوة (۲ ربیع الاول ۱۴۱۴ھ، ، 19 اگست ۱۹۹۳ء) میں ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان ہے : الدكتور یوسف القرضاوی يكشف خفايا المؤامرة الماسونية (ڈاکٹر قرضادی ماسونی سازش کے خفیہ رازوں کا انکشاف کرتے ہیں) موجودہ زمانہ میں اس قسم کے مضامین ہزاروں کی تعداد میں چھاپے گئے ہیں، مسلمان آج جن مشکلات و مسائل سے دوچار ہیں ان کے بارہ میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ غیر اقوام کی سازش کا نتیجہ ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ مسلسل دشمنانِ اسلام کی ان سازشوں کے انکشاف میں مصروف ہے ۔
مخالفین کی ان سازشوں کے خلاف عالمی سطح پر جدوجہد جاری ہے۔ اس جد و جہد کے بارہ میں میں کہوں گا کہ وہ اپنا نشانہ پورا کر چکی ہے۔ مگر اس کے باوجود نتیجہ بدستور صفر ہے۔ نشانہ کی تکمیل کے باوجود مسلمانوں کے مسائل ایک فی صد بھی حل نہیں ہوئے ۔
سازشوں کے بارہ میں نشانہ کی تکمیل سے میری مراد سازشوں کا انکشاف ہے۔ موجودہ زمانہ میں تمام مسلم پریس ، تمام مسلم اجتماعات، تمام مسلم لٹریچر مغربی سازشوں کے انکشاف میں مصروف ہیں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ سازش اسی وقت تک سازش ہے جب تک وہ مخفی رہے۔ سازش جب بے نقاب ہو جائے تو وہ سازش نہیں رہتی۔ پھر جب مسلم دماغوں نے مغربی سازش کی مخفی حیثیت کو ختم کر کے اسے ایک معلوم حقیقت بنا دیا تو اس کے بعد گویا انھوں نے سازش کے مقابلہ میں کامیابی بھی حاصل کر لی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ سازشوں کے اوپر فکری فتح حاصل کر لینے کے باوجود ہمارے مسائل کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مغرب کی مفروضہ سازش سادہ طور پر صرف سازش نہیں تھی ۔ وہ مغرب کی ترقیاتی حیثیت کا ایک استعمال تھی ، وہ مغرب کی صنعتی برتری کے بطن سے پیدا ہوئی۔ ہم سازشوں کے انکشاف کے باوجود مغرب سے اس کی صنعتی برتری کو چھین نہ سکے۔ اس لیے ہم کامیاب بھی نہیں ہوئے ۔
جس چیز کو ہم نے مغرب کی سازش کا معاملہ سمجھ رکھا تھا وہ در حقیقت مغرب کی ترقیاتی برتری کا معاملہ تھا۔ اور ترقیاتی برتری کے مسئلہ کو کسی سازش کے اعلان یا انکشاف کے ذریعہ حل نہیں کیا جا سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues