Al-Risala · January 1995 · page 20

تعمیری انقلاب

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۰

تعمیری انقلاب

جرمنی نے ہٹلر (۱۹۴۵۔ ۱۸۸۹) کی قیادت میں تخریبی لاوا تیار کیا۔ یہ لاوا جب پھٹا تو اس سے جرمنی کو اور دوسرے ملکوں کو صرف تباہی حاصل ہوئی۔

اس کے برعکس مثال جاپان کی ہے۔ جاپان میں ہیرو ہیٹو (۱۹۸۹۔ ۱۹۰۱) کی قیادت میں تعمیری لاوا پکایا گیا۔ یہ لاوا تیار ہو کر جب پھٹا تو اس نے دنیا کو بہترین صنعتی پیداوار کا تحفہ دیا۔ جرمنی سے ساری دنیا کو صنعتی کانٹے ملے تھے، جاپان نے ساری دنیا کو صنعتی پھولوں سے بھر دیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لاوا تیار کرنا کیا ہے۔ اور ایک قسم کا لاوا پھٹنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے اور دوسرے قسم کا لاوا پھٹنے کا نتیجہ کیا۔

اسلام کی تحریک بھی ایک لاوا تیار کرنے کی تحریک ہے۔ اسلامی تحریک کا نشانہ افراد ہوتے ہیں۔ اسلامی تحریک افراد کے ذہن میں انقلاب پیدا کرتی ہے۔ پھر پوری سوسائٹی انقلابی خیالات سے بھر جاتی ہے۔

یہ گویا ایک قسم کا تعمیری لاوا ہے۔ یہ لاوا تیار ہو کر جب پھٹتا ہے تو وہ پورے ملک کو اور آخر کار پوری دنیا کو اپنی برکتوں سے بھر دیتا ہے۔

اسلام کی تحریک مکمل طور پر ایک تعمیری تحریک ہے۔ وہ اول تا آخر تعمیری لاوا تیار کرنے پر مرکوز رہتی ہے۔ تخریب کاری کا طریقہ اسلامی تحریک کے مزاج سے مناسبت نہیں رکھتا۔ اس قسم کا طریقہ اسلام کی نفی ہے نہ کہ اسلام کا اثبات۔

موجودہ زمانہ میں جو مسلم رہنما اور دانشور اٹھے، وہ زیادہ تر زمانہ کے سیاسی افکار سے متاثر تھے۔ موجودہ زمانہ کی سیاسی تحریکوں نے نظام (System) کے توڑنے کو اپنا نشانہ بنا رکھا۔ اسی کے زیر اثر مسلم رہنماؤں نے بھی یہ سمجھ لیا کہ پہلا کام وقت کے نظام کو توڑنا ہے۔ اس کے بعد ہی اسلامی نظام کا قیام عمل میں آ سکتا ہے: چوں نظام کہنہ آباداں کنند اولاً تعمیر را ویراں کنند اس نظریہ نے اسلامی تحریک کو عملاً تخریبی لاوا پکانے کی راہ پر ڈال دیا۔ رحمت کا دین زحمت کا دین بن گیا، جس کا رازِ ذائقہ آج ساری دنیا چکھ رہی ہے اور خود مسلمان بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page