تحدیات عصریہ
الرسالہ، مئی ۱۹۹۵، صفحہ ۶
تحدیات عصریہ
اکتوبر ۱۹۹۴ میں دارالعلوم دیوبند میں مدارس اسلامیہ عربیہ کا ایک کل ہند اجتماع ہوا۔ اس موقع پر دارالعلوم کے مہتمم مولانا مرغوب الرحمن صاحب نے خطبہ صدارت پیش کیا۔ اس مفصل خطبہ میں ایک بحث " مدارس دینیہ اور عصری علوم" کی ہے۔ مہتمم صاحب کا ارشاد ہے کہ مدارس دینیہ کے عربی نصاب کے ساتھ علوم عصریہ کو جوڑنے کی تجویز غیر دانش مندانہ ہے۔ مدارس دینیہ کا نصاب خالص دینی علوم پر مشتمل رہنا چاہئے۔ اس میں علوم عصریہ کی آمیزش نہیں ہونا چاہئے (الفرقان ، نومبر- دسمبر ۱۹۹۴)
جو لوگ اس قسم کا خیال رکھتے ہیں انھیں جاننا چاہئے کہ اصل مسئلہ علوم عصریہ کا نہیں ہے بلکہ تحدیات عصریہ کا ہے۔ خود مدارس اسلامیہ کے مقاصد کے تحت ہی یہ ضروری ہے کہ زمانہ حاضر کی فکری تحدیات کو مع ان کے جواب کے داخل نصاب کیا جائے۔ ورنہ مدارس کا اصل مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔
مدارس اسلامیہ کا اولین مقصد دینی رہنما اور داعی تیار کرنا ہے۔ کوئی عالم مخالف اسلام نظریات سے واقفیت کے بغیر یہ کام انجام نہیں دے سکتا۔ اسی لئے علماءء اسلف نے مدارس کے نظام میں وقت کے فرق با طلہ کا تعارف اور ان کارد نصاب تعلیم میں شامل کیا تھا۔ اسی طرح انھوں نے یونانی فلسفہ کو اسلامائز کرکے اس کو معقولات کے طور پر نصاب میں شامل کیا۔ مگر یہ سب دور قدیم کی تحدیات تھیں۔ اب وہ قصہ پارینہ بن کر ماضی کی تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ خود اصول نصاب کا یہ تقاضا ہے کہ ان قدیم معقولات کی جگہ جدید معقولات کو مدارس کے نصاب میں داخل کیا جائے۔ یہ کام نہ ہونے ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ ہمارے مدارس ایسے علما تیار کر رہے ہیں جو تحدیات قدیمہ کو تو جانتے ہیں اور اس پر گفت گو کر سکتے ہیں۔ مگر تحدیات جدیدہ کی انھیں مطلق خبر نہیں۔ وہ نہ ان جدید تحدیات کو جانتے اور نہ اسلام کی طرف سے ان کا جواب دے سکتے۔ موجودہ علما اسلام کی طرف سے عصری فتنوں کا دفاع کرنے میں ناکام ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو اپنی تعلیم گاہوں میں نہ ان فتنوں کا تعارف کرایا گیا اور نہ ان کے مقابلہ میں اسلام کی نمائندگی کرنے کے لئے انھیں تیار کیا گیا۔