رحمت کلچر
الرسالہ، جون ۱۹۹۵، صفحہ ۴
رحمت کلچر
جہاد کے لفظی معنی جدوجہد کے ہیں۔ اسلام میں بامقصد کوشش ہے ، اسلام میں لڑکر مر جانا نہیں۔ اسلام آدمی کو ایک تعمیری مشن دیتا ہے۔ اور مشن کا تقاضا ہے کہ آدمی اس کو بروئے کار لانے کے لیے اپنی خدا داد صلاحیتوں کا نتیجہ خیز استعمال کرے نہ کہ بے فائدہ طور پر لڑ کر اپنا تم کرلے۔ مکہ میں پیغمبرِ اسلام اپنے دشمنوں سے لڑ کر شہید نہیں ہو گئے، بلکہ آپ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے تاکہ اپنے ربانی مشن کو جاری رکھنے کا موقع پائیں۔ قرآن میں کہیں بھی مطلق طور پر یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ اللہ کے لیے لڑا کر مر جاؤ۔ اس کے برعکس یہ فرمایا اللہ کے لیے صبر کرو ( ولربك فاصبر ) قرآن میں پیغمبرِ اسلام کو رحمة للعالمين کہا گیا ہے، قرآن میں کہیں بھی آپ کو سیف اللہ علی العالمين (دنیا والوں کے اوپر اللہ کی تلوار) نہیں فرمایا گیا۔ قرآن میں الصلح خير کی آیت نازل ہوئی ہے مگر قرآن میں الحرب خیر کے مضمون کی کوئی آیت موجود نہیں۔ قرآن میں ہے کہ انما يوف الصابرون اجرهم بغیر حساب (صبر کرنے والے بے حساب اجر پائیں گے) مگر قرآن میں کہیں یہ نہیں فرمایا کہ (نما يوفى المقاتلون اجرهم بغیر حساب (جنگ کرنے والے بے حساب اجر پائیں گے)
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا تتمنوا لقاء العدو واسئلوا الله العافية دشمن سے جنگی مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، خاتمہ اللہ سے عافیت مانگو) حدیث کے ذخیرہ میں آپ کا کوئی قول اس مضمون کا نہیں کہ علیکم ان تحبوا لقاء العدو واستئفوا الله القتال تم کو چاہیے کہ دشمن سے مڈبھیڑ چاہو اور اللہ سے جنگ کی دعا کرو) مکہ کی مہم میں ایک مسلمان نے کہا کہ اليوم يوم الملحمة (آج گھمسان کا دن ہے) آپ نے فرمایا کہ نہیں، اليوم يوم المرحمة (آج رحمت کا دن ہے)
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی کلچر رحمت کلچر ہے ، وہ گن کلچر نہیں۔ اسلام انسانوں کے درمیان ہر حال میں معتدل اور پر امن تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے، خواہ اس کے لیے فریق ثانی کی ایک طرہ شرطوں پر صلح کر لینا پڑے، جیسا کہ حدیبیہ کے موقع پر کیا گیا۔ اہل ایمان کا کام نہ سر کاٹنا ہے اور نہ سرکٹوانا۔ اہل اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ دنیا میں خدا کے متواضع بندے بن کر رہیں۔ وہ برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کریں، وہ اعلیٰ اخلاق کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں معرفت حق کے چشمے جاری کریں۔ وہ خود بھی ربانی انسان بنیں اور دوسروں کو بھی ربانی انسان بنانے میں اپنی ساری طاقت لگا دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues