Al-Risala · June 1995 · page

برائی کی قسمیں

الرسالہ، جون ۱۹۹۵

برائی کی قسمیں

عن أبي أمامۃ ، قال قال رسول الله رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن میں تمام صلیٰ الله علیہ وسلم : يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَیٰ خصلتیں پائی جاسکتی ہیں، سوا خیانت اور جھوٹ الْخِلَالِ كُلِّهَا إِلا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ۔ کے۔

( رواه احمد ، دايہقی فی شعب الایمان عن سعد بن ابی وقاص)

انسانی غلطیوں کا سبب عام طور پر دو ہوتا ہے ، ایک ہوس ، اور دوسرے دنات۔ ہوس کے تحت ہونے والی غلطی وہ ہے جو کوئی آدمی نفسانی جذبہ سے مغلوب ہو کر کر بیٹھتا ہے۔ دنات کے تحت کی جانے والی غلطی وہ ہے جو کینہ صفت ہونے کی بنا پر کسی شخص سے صادر ہوتی ہے۔ حدیث میں جو بات کہی گئی ہے اس کی وجہ یہی فرق ہے۔ کوئی شخص جب کسی دوسری اخلاقی برائی میں ملوث ہوتا ہے، مثلاً غصہ میں کوئی سخت کارروائی کرنا، تو اس کا سبب نفس کی کمزوری ہوتی ہے مخصوص حالات میں آدمی کے اوپر نفس کا غلبہ ہو جاتا ہے اور وقتی مغلوبیت کے تحت وہ ایک غلط فعل کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ پھر جب نفسانی مغلوبیت ختم ہوتی ہے تو اس کے اوپر شدت سے ندامت کا احساس طاری ہو جاتا ہے ۔ وہ خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگتا ہے کہ میں نے کیوں ایسا کیا۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

مگر خیانت اور کذب کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہ برائی کی وہ قسم ہے جو کینہ پن کی بنا پر آدمی سے صادر ہوتی ہے۔ اس کا ارتکاب وہ شخص کرتا ہے جس کی روح گندی ہوگئی ہو۔ اس کا سبب وقتی مغلوبیت نہیں ، بلکہ شر پسندی کی مستقل خصلت کی بنا پر آدمی اس کا ارتکاب کرتا ہے۔ ایسا فعل وہ شخص کرتا ہے جس کی روح مسخ ہوگئی ہو۔ اسی لیے وہ خیانت اور جھوٹ جیسی برائی کا مرتکب ہونے کے باوجود مطمئن رہتا ہے۔ اس کو کسی قسم کی بے چینی لاحق نہیں ہوتی اور نہ توبہ اور ندامت کی کیفیت اس کے اندر پیدا ہوتی۔

جو برائی وقتی مغلوبیت کے تحت صادر ہو، اس کے متعلق امید ہے کہ اللہ انہیں معاف کر دے گا۔ لیکن جس برائی کا سبب روحانی گندگی ہو اس کے لیے معافی کا کوئی سوال نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1995 All issues

Printed page