چپ رہنا
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۵۶
چپ رہنا
امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور آخرت کی باتوں کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے کہا کہ تم میں سے جو شخص کچھ پوچھنا چاہے وہ پوچھے ، میں اس کا جواب دوں گا۔ مگر یہ سن کر لوگوں کا حال یہ ہوا کہ شدت احساس سے وہ رونے لگے (فاکثر الناس في البکاء) فتح الباری ۲۷/۲ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عرب میں نفاق اور ارتداد پھیل گیا۔ لوگ کہنے لگے کہ جس شخص کی وجہ سے مسلمانوں کو خدا کی نصرت ملتی تھی، وہ شخص دنیا سے چلا گیا۔ بہت سے قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ اس نازک حالت میں خلیفہ اول ابو بکر صدیق نے مدینہ میں صحابہ کو جمع کیا اور حالات کا ذکر کرتے ہوئے ان سے مشورہ طلب کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے جب یہ تقریر کی تو لوگوں کا حال یہ ہوا کہ وہ سر جھکا کر خاموش بیٹھ گئے (فاطر قوا طویلاً) حیات الصحابہ ۴۳۴/۱ اس طرح کے واقعات جو کتابوں میں آئے ہیں وہ صحابہ کرام کا مزاج بتاتے ہیں۔ صحابہ آج کل کے لوگوں کی طرح بڑھ بڑھ کر بولتے نہیں تھے۔ بلکہ اکثر حالات میں وہ چپ رہنا پسند کرتے تھے۔ چپ رہنا بے عملی نہیں ، وہ سرتاپا عمل ایسے مواقع پر جو آدمی چپ ہو جائے وہ دراصل سوچ رہا ہے۔ وہ دوسروں سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں پر غور کر رہا ہے۔ وہ انسان سے بات کرنے کے بجائے اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہے۔ وہ اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے دعاؤں میں مشغول ہے۔ چپ رہنا آدمی کے سنجیدہ ہونے کی علامت ہے، اور بولنا اکثر اوقات آدمی کی بے حسی اور غیر ذمہ داری کی علامت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم کو جو کچھ پوچھنا ہے پوچھ لو۔ مگر صحابہ پوچھنے کے بجائے رونے لگے۔ اللہ سے ڈرنے والے انسان کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔ ایسے انسان کی نگاہ اپنی ذمہ داریوں پر ہوتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ میں معلوم باتوں کی ذمہ داری ہی اب تک ادا نہ کر سکا۔ پھر میں اور باتیں پوچھوں تو کس لیے پوچھوں۔ یہ احساس احتساب اس پر خاموشی کی کیفیت طاری کر دیتا ہے ، بجائے اس کے کہ وہ بے محابا ہو کر بولنے لگے۔
م الرسار جولائی ۱۹۶۵
‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues