The Relationship between Faith and Reason
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۸
مگر اس کے برعکس میرا احساس یہ ہے کہ ایمان وعقیدہ کو اسی قطعیت کے درجہ میں مانا جا سکتا ہے جس درجہ میں سائنسی نظریات کو مانا جاتا ہے۔ کم ازکم بیسویں صدی میں اب دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق نہیں۔
اصل یہ ہے کہ علم حقائق دو قسم کی چیزوں پر مشتمل ہے۔ ایک وہ جس کو برٹرینڈ رسل نے چیزوں کا علم (knowledge of things) کہا ہے اور دوسرا وہ جس کو وہ حقیقتوں کا علم (knowledge of truths) کہتا ہے۔ یہ دوگانہ تقسیم مذہب میں بھی ہے اور سائنس میں بھی۔ مثلاً جو علماء سائنس حیاتیاتی ارتقاء کو سائنسی حقیقت کہتے ہیں ان کے نزدیک اس کے دو پہلو ہیں: ایک ہے مختلف انواع (species) کے جسمانی مظاہر کا معاملہ۔ اور دوسرا ہے وہ قانون ارتقاء جو انواع کی تبدیلیوں کے درمیان مخفی طور پر جاری رہتا ہے۔
ایک ارتقائی عالم جب انواع حیات کے جسمانی مظاہر کا مطالعہ کرتا ہے تو گویا کہ وہ اشیاء کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب وہ ارتقائی قانون کا مطالعہ کرتا ہے تو اس وقت وہ اپنے موضوع کے اس پہلو کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے جس کو اوپر کی تقسیم میں حقیقت کہا گیا ہے۔ ہر ارتقائی عالم جانتا ہے کہ دونوں پہلوؤں کے درمیان نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں جہاں تک اشیاء یا شواہد ارتقاء کے مطالعہ کا تعلق ہے، اس کے سلسلہ میں براہ راست دلائل قابل حصول ہیں۔ مثال کے طور پر متحجرات (fossils) جو کھدائی کے ذریعہ زمین کی تہوں سے کثرت سے برآمد کئے گئے ہیں، ان کا مطالعہ مشاہداتی سطح پر ممکن ہے۔
اس کے برعکس حقائق یا قانون ارتقاء کے معاملہ میں موضوعی شواہد نہ ہونے کی وجہ سے اس پر براہ راست استدلال ممکن نہیں۔ مثلاً ارتقائی عمل کے دوران اشکال میں اچانک تبدیلیوں (mutations) کا نظریہ، جو تمام تر قیاسات پر مبنی ہے نہ کہ براہ راست مشاہدات پر۔ اس دوسرے معاملہ میں خارجی تغیر تو دکھائی دیتا ہے، مگر قانون تغیر بالکل نظر نہیں آتا۔ اسی لئے ہر عالم ارتقاء موضوع کے اس دوسرے پہلو میں بالواسطہ استدلال سے کام لیتا ہے جس کو علم منطق میں استنباطی استدلال (inferential argument) کہا جاتا ہے۔
تبدیلی کا یہ نظریہ ارتقاء کی بنیاد ہے۔ تاہم اس معاملہ کے دو حصے ہیں۔ اس کا ایک جز مشاہدہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues