Al-Risala · September 1995 · page 11

باہمی تفریق برٹش کی دین

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۱

باہمی تفریق برٹش کی دین

آج جس "کامن فیلنگ" کی بات کی جارہی ہے وہ اس سے پہلے صدیوں سے ہمارے ملک میں پوری طرح موجود تھی۔ ملک کے مختلف فرقے مل جل کر محبت کے ساتھ باہم زندگی گزارتے تھے۔ حالانکہ اس زمانہ میں کامن سول کوڈ جیسی کسی چیز کا سرے سے کوئی وجود نہ تھا۔ ہر فرقہ کی کلچرل شناخت الگ تھی، اور ہر ایک اپنی اپنی مذہبی روایت کے مطابق شادی بیاہ کی رسوم ادا کرتا تھا۔ پھر بھی وہ چیز پوری طرح موجود تھی جس کو قومی یک جہتی کہا جاتا ہے۔

ہندوستانی سماج کے اس توازن کو جس چیز نے برہم کیا وہ کوئی غیر کام من کوڈ نہیں تھا، بلکہ سابق برٹش حکومت کی وہ پالیسی تھی جس کو سابق لفٹینٹ جنرل کوک (General Coke) نے فارمولے کی صورت دیتے ہوئے کہا تھا کہ لڑاؤ اور حکومت کرو :

Divide and rule

اس غیر مطلوب صورت حال کا ابتدائی آغاز لارڈ ایلگن (James Bruce Elgin) کے زمانہ میں ہوا جو ۶۳-۱۸۶۲ میں ہندوستان کا وائسرائے تھا۔ برٹش گورنمنٹ کے سکریٹری آف اسٹیٹ مسٹر وڈ (Wood) نے لندن سے نئی دہلی میں مقیم وائسرائے کو خط لکھا کہ :

We have maintained our power in India by playing off one part against the other and we must continue to do so. Do all you can, therefore, to prevent all having a common feeling. ہم نے ہندوستان میں اپنا اقتدار وہاں کے ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ کے خلاف لڑا کر باقی رکھا ہے۔ ہمیں ایسا کرتے رہنا چاہیے۔ اس لیے لوگوں کو مشترک احساس سے روکنے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہو کرو (دی ہندوستان ٹائمس ۳۰ مارچ ۱۹۹۵)

برٹش حکمرانوں کی یہی سوچی سمجھی پالیسی تھی جس نے ہندوستان کی بنی بنائی مشترک قومیت کو بکھیر دیا۔ انھوں نے ہر موقع کو استعمال کر کے لوگوں کے درمیان نفرت کو بھڑکایا۔ انھوں نے حکومت کے تمام ذرائع سے کام لے کر باہمی نفرت کا ایک مصنوعی جنگل اگا دیا۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد بھی یہ آگ بجھائی نہ جاسکی۔ اور اس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ یہی اس کی اصل وجہ ہے۔ اس کے علاوہ یونیفارم سول کوڈ کے ہونے یا نہ ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page