Al-Risala · September 1995 · page 14

دانشوران قوم کا رد عمل

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۴

یکسانیت اور اصلاح کے درمیان قطعی طور پر کوئی بھی منطقی ربط نہیں۔ اول الذکر کے خلاف کیس اتنا ہی ناقابل تردید ہے جتنا کہ وہ مؤخر الذکر کے معاملہ میں ہے۔ یکساں سول کوڈ، قومی اتحاد اور استحکام کے فروغ کے لیے کوئی قطعی چیز نہیں، جیسا کہ جج صاحبان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ دستور ہند کی اسٹیٹ لسٹ میں ۶۶ اندراجات ہیں اور کانکرنٹ لسٹ میں ۴۶ اندراجات ہیں، جن کے معاملہ میں ریاستوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ الگ الگ قوانین بنا سکتی ہیں، اور ان میں یکسانیت ضروری نہیں ہے۔ اگر ریاستوں کی جغرافی اور ثقافتی عدم یکسانیت کی بنیاد پر بنائے جانے والے فزیکساں قوانین ملک کے اتحاد کے لیے خطرہ نہیں ہیں تو غیر جغرافی نوعیت کے مذہبی گروہوں میں عدم یکسانیت سے وہ کیوں خطرہ بن جائیں گے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوئی فرقہ مذہب کی بنیاد پر اپنے لیے علیحدہ وجود کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ مگر کیا ہم نے زبان کی بنیاد پر علیحدہ وجود کا اقرار نہیں کیا ہے اور زبان کی بنیاد پر از سر نو ملک کی تنظیم نہیں کی ہے۔ کیا منڈل اصول کے تحت ذات کی بنیاد پر تشخص کو سیاسی جواز نہیں دیا گیا ہے۔ پھر معزز جج کیوں استثنائی طور پر صرف مذہبی گروہ کو علیحدہ تشخص کا حق دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ یہ ایک غیر منطقی روش ہے، اور سماجی اور سیاسی اعتبار سے مسلمہ حقائق کے خلاف ہے۔ کیا یہ تشخص محض ایک جج کے اعلان سے ختم ہو جائے گا۔ (انڈین ایکسپریس ۶ جولائی ۱۹۹۵)

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page