قانون کی محدودیت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۰
گیا تھا۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا۔ اندر اگاندھی نے ایمرجنسی کا اعلان کر کے مزید اضافے کے ساتھ دہلی کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔
۱۹۸۶ میں یوپی کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے کے تحت بابری مسجد کا بند دروازہ کھلوا دیا تا کہ ہندو آسانی کے ساتھ اس کے اندر پوجا کی رسم ادا کر سکیں۔ بظاہر اس کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خوش گوار تعلق قائم کرنا تھا۔ مگر اس کا عملی نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بعد ایسا طوفان برپا ہوا کہ ہندومسلم تعلقات آخری حد تک بگڑ گئے اور ہندوستان سیاسی اور اقتصادی تباہی کے کنارے پہنچ گیا۔
شاہ بانو کیس میں ۱۹۸۵ میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا۔ بظاہر اس کا مقصد عورتوں کے ساتھ انصاف کرنا تھا، مگر عملی نتیجہ یہ ہوا کہ راجیو گاندھی گورنمنٹ نے ایک قانون بنا کر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم کر دیا۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس معاملہ کو بھر پور طور پر اپنے سیاسی فائدہ کے لیے استعمال کیا۔ یہاں تک کہ ہندوستانی پارلیمنٹ میں اس کے ممبروں کی تعداد دو سے بڑھ کر ۱۱۹ تک پہنچ گئی اور کئی ریاستوں میں اس کی حکومت قائم ہوگئی۔
قانون کی محدودیت اس سے بھی ثابت ہے کہ ہندو کوڈ بل ۱۹۵۵ میں اگر چہ کسی ہندو کے لیے صرف ایک ہی نکاح کی اجازت رکھی گئی ہے۔ مگر ۱۹۶۱ کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق، ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی شرح ہندوؤں کے اندر مسلمانوں سے زیادہ ہے : According to the Indian census report of 1961, the percentage of Hindus having more than one wife was more than that of the Muslims. انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے دو سو سالہ اقتدار کے زمانہ میں صرف پانچ سو قانون بنائے ۔ ہمارے لیڈروں کو ملک میں ۱۹۴۷ میں اقتدار ملا تو انھوں نے ۴۵ سال کی مدت میں پانچ ہزار سے زیادہ قانون بنا ڈالے۔ مگر اصلاحی قوانین کی کثرت صرف الٹا نتیجہ دینے والی (counter-productive) ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ملک میں جھگڑے بہت بڑھ گئے۔ کرپشن میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ انصاف حاصل کرنا انتہائی دشوار کام بن گیا۔ عورتوں کی حالت ہمیشہ سے زیادہ خراب ہوگئی۔ یہ حالات سماج سدھار کے لیے نئی تدبیر تلاش کرنے کا تقاضا کرتے ہیں نہ کہ قوانین میں مزید اضافے کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues