تبدیلی مذہب کا مسئلہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۲
نیا قانون بنانا کسی بھی درجہ میں پچھلے قانون کے غلط استعمال کے خلاف چیک نہیں۔ قانون کے غلط استعمال کا موقع ہر حال میں باقی رہتا ہے۔ ٹیکس ماری کوروکنے کے لیے بے شمار قوانین اور ضوابط بنے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ٹیکس ماری کا سلسلہ ہمایائی سطح پر جاری ہے۔ پھر جب کسی بھی قانون میں اس کے غلط استعمال کوروکنا ممکن نہ ہوسکا تو سول کوڈ میں کیونکر ایسا ممکن ہوجائے گا۔ دوسری بات یہ کہ یونیفارم سول قانون کے نفاذ کے بغیر اگر ایسے ہندوؤں کے لیے کوئی قانونی چیک نہیں ہے تو سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کے لیے کیوں کر ایسا ممکن ہوا کہ وہ ایسے غلط ہندوؤں کے لیے سزا کا فیصلہ سنائیں اور ان کے دوسرے نکاح کو باطل (invalid) قرار دے دیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے جج صاحبان نے اپنا مقصد انڈین پینل کوڈ کی دفعہ ۴۹۴ کے ذریعہ حاصل کیا۔ گویا عدالت کی خود اپنی مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہاں بالفعل ایسے مانع قوانین موجود ہیں۔ اور کج رو ہندو کے لیے یہاں کوئی بے قید تحریک پایا نہیں جاتا، حتی کہ موجودہ قوانین کے تحت بھی نہیں۔ پھر ایسے کج رو لوگوں کو کج روی سے روکنے کے لیے کسی نئے سول قانون کی کیا ضرورت :
The Court’s own ruling shows that no such inducement is available to an “errant Hindu” even under existing law. You do not need a civil code to deter him. دفعہ ۴۹۴ قابل حذف اوپر میں نے جو تجزیہ کیا ہے اور جو دلائل جمع کیے ہیں، اس کے بعد دو اور دو چار کی طرح یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ دستور ہند کی دفعہ ۴۹۴ کی کوئی بھی قانونی یا اخلاقی یا سماجی معنویت نہیں۔ وہ کچھ دماغوں کا ایک فرضی تخیل تھا۔ اب اس کا واحد انجام یہ ہونا چاہیے کہ اس کو دستور سے حذف کر دیا جائے، ٹھیک اسی طرح جس طرح جسم کی فاضل آنت (Appendix) کا آپریشن کرکے اسے نکال دیا جاتا ہے۔ اس قسم کا دستوری آپریشن کوئی نئی چیز نہیں۔ دستور ہند میں بار بار ایسے حذف واضافے کیے جا چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ابتدائی دستور میں انفرادی ملکیت کو مکمل طور پر محترم قرار دیا گیا تھا اور حکومت کو دستوری طور پر یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ کسی کی جائز ملکیت کو اس سے چھین سکے۔ مگر ۱۹۵۵ میں دستور میں چوتھا ترمیمی ایکٹ (The Constitution (Fourth Amendment) Act 1955)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues