تبدیلی مذہب کا مسئلہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۴
مگر یہ انتہا پسندی ہے۔ اس قسم کے انتہا پسند لوگ ہر مذہب اور ہر نظام میں ہوتے ہیں، چنانچہ خود اسلام میں ایسے انتہا پسند لوگ موجود ہیں جو اسلام کی ایسی تشریح کرتے ہیں، جس میں اسلام سیاست اور جنگ کا مذہب بن جاتا ہے۔ مگر یہ غلو اور تشدد ہے، وہ اسلام کی صحیح نمائندگی نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سیکولرزم اور یونیفارم سول کوڈ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ہندوستان کا سیکولر گروپ اگر واقعہ سیکولر گروپ ہے تو اس کو یونیفارم سول کوڈ کی بات نہیں کہنا چاہیے۔ کیوں کہ انفرادی دائرہ میں مذہبی آزادی سیکولرزم کا بنیادی اصول ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ہندو آئیڈیالوجی کی بنیاد پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ اس گروہ کو جاننا چاہیے کہ اگر وہ ہندو آئیڈیالوجی میں عقیدہ رکھتا ہے تو یہ خود اس کے اپنے عقیدہ کے خلاف ہوگا کہ وہ ہر طبقہ اور فرقہ کو ایک ہی سول کوڈ کے تحت لانے کی کوشش کرے۔
ہندو آئیڈیالوجی کا بنیادی اصول سرو دھرم سمبھاو ہے۔ یعنی سب دھرم سچے ہیں۔ ہندو ازم کی بنیادی صفت یہ ہے کہ وہ کثرت میں وحدت (unity in diversity) کو مانتا ہے۔ اس کے نزدیک حقیقت کے ظاہری فارم مختلف ہوتے ہیں مگر اندرونی حقیقت ایک ہوتی ہے۔ گویا ہندو ازم کا عقیدہ ہے ـــــــــــ انیکتا میں ایکتا کو دیکھنا۔
سول کوڈ یا کسی کوڈ کا تعلق ظاہری فارم سے ہے نہ کہ اندرونی اسپرٹ سے۔ ایسی حالت میں یہ ہندو نقطہ نظر کے خلاف ہوگا کہ مختلف گروپوں کے پرسنل لا کو ختم کر کے سب کے لیے صرف ایک کوڈ جاری کرنے کی کوشش کی جائے۔
دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک (مثلاً برطانیہ، جرمنی، فرانس وغیرہ) میں ملٹی کلچر نیشن کا اصول رائج ہے۔ سنگاپور جیسے چھوٹے ملک سے لے کر امریکہ جیسے بڑے ملک تک ہر جگہ اسی اصول کو اختیار کر کے ترقی ہو رہی ہے۔ سوویت یونین غالباً واحد ملک ہے جہاں یونی کلچر نیشن بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے لیے ہر قسم کی ریاستی طاقت استعمال کی گئی۔ مگر یونی کلچر نیشن تو نہیں بنی، البتہ خود سوویت یونین ٹوٹ کر ختم ہوگیا۔ تاریخ عالم کے یہ تجربات ہماری آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں یکسانیت کا تعلق تاریخ سے ہے نہ کہ قانون سے۔ اگر کسی سماج میں تاریخی عمل کے ذریعہ یکساں کلچر آجائے تو وہاں یکساں کوڈ بھی بن جائے گا۔ اس سے پہلے ایسا ہونا ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues