اضافہ آبادی کا ہوا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۶
عمر ۷۲ سال ہو چکی ہے۔ مگر اس پوری مدت میں میرے علم میں کوئی ایک بھی ہندوستانی مسلمان نہیں آیا جس نے چار شادیاں کر رکھی ہوں۔ حتیٰ کہ ایسا کرنا ممکن بھی نہیں۔ کیوں کہ تمام مسلمان چار شادیاں اس وقت کر سکتے ہیں جب کہ ان کے یہاں مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد چار گنا زیادہ ہو۔ یا ان کے پاس کوئی ایسا کارخانہ ہو، جہاں وہ زیادہ عورتیں پیدا کر سکیں۔ مگر موجودہ مسلم سماج میں نہ تو عورتیں زیادہ ہیں اور نہ مسلمانوں کے پاس کوئی عورت ساز فیکٹری موجود ہے۔ ایسی حالت میں ان کے لیے کیوں کر ممکن ہو گا کہ ان میں سے ہر شخص چار چار بیویاں رکھے۔ مسٹر بلراج پوری کا ایک پیراگراف اس سلسلہ میں نقل کرنے کے قابل ہے :
" اس خدشہ کا پہلا مقدمہ کہ تعدد ازدواج کے حق میں قانونی دفعہ اس پر عمل تک بھی پہنچائے گی، شماریاتی مطالعہ سے ثابت نہیں ہوتا۔ عورت کی حیثیت کے بارہ میں نیشنل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق تعدد ازدواج فی الحقیقت دوسرے فرقوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے اندر کم ہے۔ اس کا دوسرا مقدمہ کہ تعدد ازدواج مسلمانوں کی آبادی کو زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھائے گا، منطقی طور پر مغالطہ آمیز ہے۔ بچہ پیدا کرنے کے قابل عورتوں کی تعداد چونکہ ہمیشہ یکساں رہتی ہے، اگر کچھ مرد ایک سے زیادہ شادیاں کریں تو بہت سے مردوں کو بیویاں ہی نہیں ملیں گی۔ کسی فرد میں غیر شادی شدہ مردوں کی کثیر تعداد کسی بھی طرح اس فرقہ کی تولیدی صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتی۔ واضح طور پر، چار آدمی چار بیویوں کے ساتھ زیادہ بچے پیدا کریں گے، بمقابلہ اس کے کہ ایک ہی مرد کے ساتھ چار بیویاں ہوں۔ اس طرح تعدد ازدواج کا طریقہ آبادی میں اضافہ کی رفتار کو گھٹانے والا ہے نہ کہ اس کو بڑھانے والا ( انڈین ایکسپریس ۶ جولائی ۱۹۹۵)
تقریباً یقینی ہے کہ مذکورہ انتہا پسند سیاسی عناصر اگلے الیکشن میں ہندو ووٹروں سے کہیں گے کہ دیکھو، دستور کی دفعہ اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود مسلمان یکساں سول کوڈ بنانے کے لیے راضی نہیں ہیں۔ وہ ایسا قانون بنانے کے مخالف اس لیے ہیں کہ اس کے بعد انھیں چار شادیوں کی اجازت نہیں رہے گی اور اس طرح وہ اپنی آبادی بڑھانے اور ہندوؤں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے بارہ میں اپنے منصوبہ کی تکمیل نہ کر سکیں گے۔ اس لیے ہمیں ووٹ دے کر ہم کو اقتدار تک پہنچاؤ تاکہ ہم اس خطرہ کا دفعہ کر سکیں۔ مگر اس پروپیگنڈے کا بے بنیاد ہونا ہی اس کے لیے کافی ہے کہ خدا کی دنیا میں وہ کامیاب نہ ہو۔ ملک کا سب سے بڑا اخبار ٹائمس آف انڈیا ہر روز اپنے پہلے صفحہ پر اس قانون فطرت کا اعلان کرتا ہے کہ سچائی غالب آتی ہے (Let Truth Prevail)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues