Al-Risala · October 1995 · page 43

Where is the conscience of mankind.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۳

برصنیا کی ٹریجڈی کا کچھ بھی تعلق مذہب سے نہیں ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ اسلام سولھویں صدی میں بوسنیا میں پھیلا۔ ایک صاحب نے کہا کہ:

It is nothing to do with the gospel. It is not a religious conflict; but a political one.. ایک صاحب نے کہا کہ مارشل ٹیٹو نے ساری دنیا کو دھوکہ دیا۔ اس نے پورے یوگوسلاویہ کو ایک نیشن بتایا۔ حالاں کہ وہاں مختلف گروہ تھے ، کوئی ایک نیشن نہیں تھی۔ ایک صاحب نے کہا کہ بوسنیا میں آرمی پوری طرح سرب کے ہاتھ میں تھی۔ یہ مسئلہ اس لئے اتنا بڑھا کہ آرمی سب کی سب سرب پر مشتمل ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ کیتھولک چرچ مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے ۔ وہ صرف زیادتی (atrocity) کے خلاف ہے۔ ایک پادری نے کہا کہ بوسنیا میں صرف مسلمان ہلاک نہیں ہو رہے ہیں بلکہ کرسچن بھی بڑی تعداد میں ہلاک ہو رہے ہیں۔ انھوں نے جذباتی انداز میں کہا:

Where is the conscience of mankind.

ایک پادری نے کہا کہ میں اپنے گھر میں عبادت اور دعا میں مشغول تھا کہ مسلح افراد کا ایک گروہ میرے گھر میں داخل ہوا۔ انھوں نے پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو۔ میں نے کہا کہ میں دعا کر رہا ہوں۔ انھوں نے پوچھا کہ کس کے لئے انھوں نے جواب دیا کہ اے میرے بچو، تمھارے لئے۔ وہ لوگ باہر نکلے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان کو چھوڑ دو۔ انھیں کچھ نہ کہو۔ ان کو یقین نہیں تھا کہ کوئی اپنے دشمن کے لئے نیک دعا کر سکتا ہے۔ وہ لوگ واپس چلے گئے۔

اس کانفرنس میں بوسنیا کے ایک عالم شیخ یعقوب سلیموسکی بھی شریک تھے۔ آجکل وہ مقدونیہ (Macedonia) میں مقیم ہیں۔ وہ ادھیڑ عمر کے ہیں اور روانی کے ساتھ عربی زبان بولتے ہیں۔ ان کا مقدونیہ کا ٹیلیفون نمبر یہ ہے : 255650-91-38 انھوں نے عربی میں تقریر کرتے ہوئے کہا: مارچ ۱۹۹۲ میں بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف ظلم شروع ہوا۔ بوسنیا کی حیثیت پہلے منطقہ عسکریہ کی تھی۔ چنانچہ وہاں نہایت طاقت ور یوگوسلاوی فوج موجود تھی جس میں بیشتر سرب سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ یورپ کی پانچویں سب سے بڑی فوج تھی۔ ہر یورپی ملک میں مسلمان موجود ہیں۔ مگر بوسنیا و ہر سک میں یورپ کو مسلمانوں کا وجود برداشت نہیں۔ کیوں کہ ہم وہاں عالم اسلامی کا جزء

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page