Al-Risala · October 1995 · page 45

Parrocehia S. Giovanni B. alla Creta

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۵

ایک شخص نے کہا کہ موجودہ حالات کا تقابل ماضی کے حالات سے کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بوسنیا کے مسلمانوں نے بہتر حالت سے بری حالت کی طرف چھلانگ لگائی ہے۔ شیخ نے اقرار کیا اور کہا کہ ہاں، لوگوں نے غلطیاں بھی کیں (طبعا كانت هناك اخطاء)، انھوں نے کہا کہ جنگ چھڑنے سے پہلے وہاں جذباتی تحریک (حركة عاطفية) پائی جارہی تھی نہ کہ عقلی تحریک (حركة عقلية)۔ مسلمانوں کے پاس کوئی عسکری طاقت نہ تھی جب کہ بوسنیا میں نہایت طاقت ور سرب فوج موجود تھی۔ اسی فوج نے اعلانِ آزادی کے بعد مسلمانوں کو مارنا شروع کیا۔ شیخ یعقوب کی تقریر سننے کے بعد میں نے ایک عرب عالم (شیخ سکوتہ) سے کہا کہ جب بوسنیا میں سرب کی طاقت ور فوج موجود تھی اور مسلمانوں کے پاس کوئی طاقت نہ تھی تو انھوں نے حالات کا لحاظ کئے بغیر آزادی کا اعلان کیوں کر دیا۔ شیخ نے کہا (غفلة كبيرة) میلان میں ایک بہت بڑا ادارہ ہے جس میں چرچ بھی ہے اور اس کے علاوہ مختلف قسم کی سماجی اور معاشی اور تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس میں اسی ہزار طلبہ کے قیام کا انتظام ہے، اس کی یہ ہے:

Parrocehia S. Giovanni B. alla Creta

ان کی طرف سے پیغام ملا کہ وہ اپنے یہاں ایک خطاب رکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کے عیسائی لوگ اسلام کے بارہ میں کچھ بھی نہیں جانتے۔ آپ آکر انھیں بتائیں کہ اسلام کیا ہے۔ میں نے ان کی دعوت قبول کر لی۔

۲۱ ستمبر کی شام کو فادر تارونی (Massimiliano Taroni) اپنے وقت آ گئے۔ ان کے ساتھ ہم تین آدمی روانہ ہوئے۔ میں، ثانی اثنین اور ڈاکٹر اندریا دلوکا۔ رات کا کھانا ان کے یہاں کھایا گیا۔ کھانا اور ڈائننگ ہال اور اس کی ہر چیز سادہ مگر انتہائی صاف ستھری تھی، کھانے کے بعد ان کے ہال میں پروگرام ہوا۔ پورا ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ یہ پروگرام اچانک بنا تھا میں نے ۲۰ ستمبر کی شام کا اجلاس چھوڑ دیا۔ اور اپنے کمرہ میں بیٹھ کر پانچ صفحہ پر مشتمل انگریزی میں ایک تقریر تیار کی۔ اس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں اسلام کی سادہ تشریح کی گئی تھی۔ لوگوں نے غیرمعمولی دلچسپی لی۔ میری تقریر پر لے کر کئی لوگوں نے فوری طور پر فوٹو کاپی کر کے حاصل کیا۔ آتے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page