Al-Risala · November 1995 · page 206

دفع احسن

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۰۶

دفع احسن

ولا تستوى الحسنة ولا السيئة ادفع اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں تم جواب بالتي هي احسن فاذا الذي بينك وبينه میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم عداوة كأنه ولى حميم (۴۱ : ۳۴) میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔

ایک شخص آپ کے ساتھ دشمنی کا معاملہ کرے اور آپ اس پر بھڑک کر اس کی مذمت کرنے لگیں تو اس کے اندر ضد پیدا ہوگی۔ اس کی دشمنی اور بڑھ جائے گی۔ آپ کا ایسا ردعمل آگ پر تیل ڈالنے کے ہم معنی ہو گا۔ جس دشمنی کی ابتدائی صورت آپ کے لئے ناخوشگوار ثابت ہوئی تھی، اب آپ کو اس دشمنی کی انتہائی صورت کا تلخ تر تجربہ برداشت کرنا پڑے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ ایسا کریں کہ جس آدمی نے آپ کے ساتھ دشمنی والا سلوک کیا ہے، اس کے ساتھ آپ اعراض برتیں۔ یا اس کے ساتھ نرمی اور حسن سلوک کا معاملہ کریں تو ایسا آگ پر پانی ڈالنے کے ہم معنی ہو گا۔ آپ کا یہ رویہ دشمن کو نفسیاتی شکست میں مبتلا کر دے گا۔ اس کے بعد اس کا ضمیر جاگ اٹھے گا۔ وہ اندرونی طور پر شرمندگی کے احساس میں مبتلا ہو جائے گا۔ وہ مزید دشمنی کرنے کے بجائے دشمنی کی تلافی کی بات سوچنے لگے گا۔ اشتعال کے جواب میں مشتعل ہونا یا منفی ردعمل کا طریقہ اختیار کرنا دل کی بھڑاس نکالنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ مگر وہ کوئی مفید نتیجہ برآمد کرنے والا نہیں۔ یہ نادان آدمی کا کام ہے کہ وہ کوئی خلاف مزاج بات دیکھے تو فوراً بھڑک اٹھے۔ عقل مند وہ ہے جو اقدام سے پہلے نتیجہ کی بات سوچے ۔ جو آخری نتیجہ کو سامنے رکھ کر اپنے عمل کا نقشہ بنائے نہ کہ محض وقتی جذبہ کے تحت کارروائی کرنے لگے۔

ہر آدمی اصلاً فطرت کا ایک ظاہر ہے ۔ ہر ایک آپ ہی کی طرح کا ایک انسان ہے۔ بظاہر کوئی شخص آپ کا دشمن ہو تب بھی اس کو ایک انسان سمجھئے۔ اس کی برائی کو نظر انداز کر کے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیجئے ۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کا قریبی دوست بن گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page