Al-Risala · December 1995 · page 4

اسلامی اصول

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴

اسلامی اصول

عن حذيفة ، عن النبي صلى الله عليه حضرت حذيفةؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ وسلم: قال : لا ينبغى لمسلم ان يذل نفسه۔ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں کہ قيل وكيف يذل نفسه۔ قال يتعرض من وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ پوچھا گیا کہ کوئی شخص کیسے البلاء لما لا يطيق۔ اپنے آپ کو ذلیل کرے گا۔ فرمایا کہ وہ ایسی بلا کا سامنا (مسند الامام احمد بن حنبل (۴۰۵/۵ کرے جس سے وہ مقابلہ کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ اس حدیث رسول سے اسلامی زندگی کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں جب کسی کی طرف سے کوئی بلا یا کوئی ناپسندیدہ صورتحال پیش آئے تو اس وقت یہ درست نہیں ہے کہ آدمی بھڑک کر صاحبِ بلا سے ٹکراجائے۔ بلکہ اس کو سوچ سمجھ کر یہ طے کرنا چاہئے کہ دو ممکن راستوں میں سے کون سا راستہ اس کے لئے زیادہ مناسب ہے۔

پہلی صورت یہ ہے کہ آدمی یہ محسوس کرے کہ اس کے پاس اتنی کافی قوت ہے کہ وہ کامیاب طور پر مقابلہ کر کے زیادتی کرنے والوں کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ اپنی زیادتی سے باز آئیں ۔ اگر ایسا ہو تو آدمی کو چاہئے کہ وہ جم کر مقابلہ کرے تاکہ فساد ختم ہو اور اصلاح کی حالت قائم ہو جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ٹھنڈے غور وفکر کے بعد آدمی اس نتیجہ پر پہنچے کہ دونوں فریقوں میں طاقت کا تناسب نا قابل عبور حد تک غیر متناسب ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ اگر مقابلہ آرائی کا طریقہ اختیار کیا گیا تو برعکس نتیجہ نکلے گا اور چھوٹا نقصان زیادہ بڑا نقصان بن جائے گا۔ اگر ایسا ہو تو لازم ہے کہ آدمی صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ اور صاحبِ بلا سے نہ الجھے۔ مزید یہ کہ اعراض کا مطلب بزدلی نہیں ہے بلکہ وقفۂ تیاری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے وقت اور اپنی طاقت کو ٹکراؤ سے بچا کر مزید تیاری میں لگائے، وہ اپنے آپ کو زیادہ مستحکم بنانے کی تدبیر کرے ۔ تاکہ آئندہ کوئی شخص اس کے خلاف زیادتی کی ہمت نہ کرے، اور اگر کوئی زیادتی کی کار روائی کرے تو آدمی کے پاس اس کے توڑ کے لئے کافی طاقت موجود ہو۔

یہ بھی اسلام کے اصولوں میں سے ایک اہم اصول ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page