Al-Risala · December 1995 · page 7

اشاعتِ اسلام

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۷

اشاعتِ اسلام

مگر ہندو دھرم میں یہ مانا گیا ہے کہ سچائی ایک ہے، مگر اس کے راستے جداجدا ہیں ۔ وہ مختلف مذاہب کو سچائی کے مختلف راستے تصور کرتا ہے۔ چنانچہ ہندودھرم ہر مذہبی سبب کے احترام کی اپیل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ہزار سال سے ہندوستان میں مذہب بدلنے کا عمل جاری ہے۔ ہندودھرم پر عقیدہ رکھنے والوں نے کبھی اس کو برا نہیں مانا ، کیوں کہ ان کے عقیدہ کے مطابق ، یہ سچائی کی طرف جانے والے ایک راستہ کے بجائے دوسرے راستہ کے ذریعہ سچائی کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے کے ہم معنی تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں مذہب کی تبدیلی پر اگر کوئی اعتراض کرتا ہے تو وہ سیاسی سبب سے ہوتا ہے نہ کہ مذہب سے۔

ہندوسنسکرتی کی یہ روایت ، ۱۹۴۷ کے بعد ملک کے کانسٹی ٹیوشن (دستور) میں بھی باقاعدہ طور پر شامل کر دی گئی۔ چنانچہ دستور کی دفعہ ۲۵ میں ملک کے ہر شہری کا یہ ناقابلِ تنسیخ بنیادی حق قرار دیا گیا ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے مانے، جس مذہب پر چاہے عمل کرے اور جس مذہب کی چاہے تبلیغ کرے۔

اسی آزادانہ فضا کا یہ نتیجہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے بھی ہندوستان میں کثرت سے لوگ اسلام قبول کرتے رہے ، اور آج بھی ہر روز ملک کے مختلف علاقوں میں لوگ اپنی ضمیر کی آواز کے تحت مسلسل اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کے شمارہ ۲۵ جون ۱۹۹۵ میں صفحہ ۱۳ پر نام کی تبدیلی (Change of Name) کے زیر عنوان یہ اعلان شائع ہوا ہے :

I, Arvind Kumar, son of Shri Prem Kumar, r/o 67/6, Zamrud Pur, Greater Kailash Part-1, New Delhi 110048, by faith Hindu, would hereafter be called as Ateeq and has embraced Islam. (The Times of India, New Delhi, June 25, 1995)

میں اروند کمار ولد شری پریم کمار ساکن زمرد پور، گریٹر کیلاش ، نئی دہلی ، ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والا، اب عتیق کے نام سے پکارا جائے گا ، اور میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page