Al-Risala · February 1995 · page 11

صحیح رد عمل

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۱

صحیح رد عمل

۲۰ نومبر ۱۹۹۴ کو منسٹری آف ایجوکیشن کی طرف سے نئی دہلی میں ایک آل انڈیا سینا رہوا۔ اس کا موضوع تھا اقدار پر مبنی تعلیم (value-based education) اس کی کارروائیاں نہرو میوزیم کے ہال میں انجام پائیں۔

اس کے شرکاء میں سے ایک پر وفیسر آر سندر راجن تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آزادی کے بعد مختلف محاذ پر ہماری نا کامیوں کا راز صرف ایک ہے، اور وہ ہے صحیح رد عمل کا فن نہ جاننا۔ یہ بلاشبہ زندگی کا ایک اہم ترین اصول ہے ، اور (art of right response) اس کا تعلق ہر شخص اور ہر گروہ سے ہے۔

خواہ فرد کا معاملہ ہو یا قوم کا معاملہ۔ ہمیشہ ہر ایک کو مختلف قسم کے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ان حالات میں کامیابی یا نا کامی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ آپ تے صورتِ حال کا کیسا جواب (response) دیا۔ صحیح جواب کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں نکلتا ہے اور غلط جواب کا نتیجہ نا کامی کی صورت میں۔

مثلا کسی فرد یا گروہ نے ایسا واقعہ کیا جو آپ کو پسند نہ تھا۔ اب اس کے جواب کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ فوراً بھڑک اٹھیں اور جذباتی تاثر کے تحت جو آپ کے خیال میں آئے وہ کارروائی آپ کر گزریں، ایسے جواب کا یقینی نتیجہ نا کامی ہے اور اسی کے ساتھ نقصان میں مزید اضافہ۔

دوسری صورت یہ ہے کہ جب ناپسندیدہ واقعہ پیش آیا تو آپ نے غصہ ہونے کے بجائے ٹھنڈے دماغ سے سوچنا شروع کیا۔ آپ نے آس پاس کے لوگوں سے مشورہ کیا۔ معاملہ کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد آپ نے خالص عقلی سطح پر ایک فیصلہ کیا۔ یہ صورتحال کا صحیح جواب ہے ، اور ایسے جواب کا یقینی نتیجہ کامیابی ہے۔ صحیح رد عمل کا فن سیکھئے، اور آپ ہمیشہ کامیاب رہیں گے۔ یہ اصول فرد کے لئے بھی ہے اور وسیع تر معنوں میں قومی زندگی کے لئے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page