خاتونِ جنت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۲
خاتونِ جنت
قرآن میں وہ تمام بنیادی صفات بتائی گئی ہیں، جو جنتی خاتون میں ہونا ضروری ہیں۔ یہ صفتیں کسی عورت کو مغفرت اور اجرِ عظیم کا مستحق بناتی ہیں۔ وہ اس کے لیے آخرت کے عذاب سے نجات کو یقینی بنانے والی ہیں۔ سورہ الاحزاب ۳۵، اور التحریم ۵ کے مطابق، وہ صفات حسب ذیل ہیں : ایمان، اسلام، قنوت، صدق، صبر، خشوع، صدقہ، صوم، حفظ فروج، ذکر اللہ، تو بہ، عبادت، سیاحت ۔
۱۔ ایمان سے مراد معرفت رب ہے۔ یعنی اپنے خالق و مالک کو اس طرح شعوری طور پر دریافت کرنا کہ وہ آپ کی سوچ پر چھا جائے ۔ وہ آپ کے دل کے اندر سما جائے ۔ آپ کی پوری شخصیت خدا کے نور سے نہا اٹھے ۔
۲۔ اسلام کے معنی اطاعت کے ہیں۔ اس سے مراد اپنے آپ کو اللہ کے تابع بنانا ہے یعنی آپ کا نفس اللہ کی اطاعت پر پوری طرح قائم ہو جائے ۔ آپ اللہ کی پیروی میں اپنی زندگی گزارنے لگیں ۔ آپ کی مرضی کا ہر قولی یا عملی اظہار عین اس کے مطابق ہو جس کا اللہ نے حکم فرمایا ہے ۔ ۳۔ قنوت کا مطلب مخلصانہ فرماں برداری ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ذہن کی پوری یکسوئی اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس طریقہ کو اختیار کر لیا جائے جو خدا اور رسول نے بتایا ہے۔ تعمیل حکم میں جب قلب کا جھکاؤ اور خضوع شامل ہو جائے تو اسی کو قنوت کہا جاتا ہے ۔
۴۔ صدق کے معنی سچائی کے ہیں۔ اس سے مراد قول اور عمل کی مطابقت ہے، یعنی وہی کہنا جو آپ کو کرنا ہے اور وہی کرنا جو آپ نے اپنی زبان سے کہا ہے ۔ لوگوں کے درمیان آپ ایک صاحب کردار خاتون کی حیثیت سے زندگی گزاریں ۔
۵۔ صبر ایک بہادرانہ صفت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے احکام پر چلنے کے لیے اگر تکلیف اٹھانا پڑے تب بھی اس سے نہ ہٹنا ۔ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرتے ہوئے دینی تقاضوں پر جمے رہنا۔ مخالفانہ محرکات کے باوجود خدائی راستہ کو نہ چھوڑنا۔
۶۔ خشوع سے مراد تواضع اور خاکساری ہے۔ خدا کی بڑائی اور اس کے کامل اختیار کے تصور
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues